خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 509 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 509

509 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 12 دسمبر 2008 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عوام الناس کے کانوں تک ایک دفعہ خدا تعالیٰ کے پیغام کو پہنچا دیا جاوے کیونکہ عوام الناس میں بڑا حصہ ایسے لوگوں کا ہوتا ہے جو کہ تعصب اور تکبر وغیرہ سے خالی ہوتے ہیں اور محض مولویوں کے کہنے سننے سے وہ حق سے محروم رہتے ہیں“۔پھر آپ فرماتے ہیں: ”دنیا میں تین قسم کے آدمی ہوتے ہیں۔عوام، متوسط درجہ کے، امراء۔عوام عموماً کم فہم ہوتے ہیں۔ان کی سمجھ موٹی ہوتی ہے۔اس لئے ان کو سمجھانا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔امراء کے لئے بھی سمجھانا مشکل ہوتا ہے کیونکہ وہ نازک مزاج ہوتے ہیں اور جلد گھبرا جاتے ہیں اور ان کا تکبر اور تعلی اور بھی سد راہ ہوتی ہے“۔ان امراء کا تکبر راستے کی روک بن جاتا ہے۔اس لئے ان کے ساتھ گفتگو کرنے والے کو چاہئے کہ وہ ان کے طرز کے موافق ان سے کلام کرے یعنی مختصر مگر پورے مطلب کو ادا کرنے والی تقریر ہو۔قَلَّ وَ دَلَّ، یعنی تھوڑے الفاظ میں ہو اور پوری دلیل کے ساتھ بات ہو۔مگر عوام کو تبلیغ کرنے کے لئے تقریر بہت ہی صاف اور عام فہم ہونی چاہئے۔رہے اوسط درجے کے لوگ زیادہ تر یہ گروہ اس قابل ہوتا ہے کہ ان کو تبلیغ کی جاوے۔وہ بات کو سمجھ سکتے ہیں اور ان کے مزاج میں وہ تعلی اور تکبر اور نزاکت بھی نہیں ہوتی جو امراء کے مزاج میں ہوتی ہے۔اس لئے ان کو سمجھانا بہت مشکل نہیں ہوتا“۔یہ اوسط درجہ کے لوگ اس علاقے میں بہت ہیں اور یہ علاقہ ابھی تک اس لحاظ سے بھی پاک ہے کہ مسلمانوں میں مولویوں کا زیادہ خوف بھی نہیں ہے۔اور عیسائی تو ویسے بھی اگر سننا چاہیں تو سن لیتے ہیں۔اگر کوئی ریجڈ (Rigid) ہندو ہیں تو ان سے بچا بھی جاسکتا ہے۔پاکستان میں تو جو اوسط درجہ کے لوگ ہیں وہ سننا نہیں چاہتے ،اگر سنتے ہیں تو خوفزدہ رہتے ہیں کہ مولوی کفر کا فتویٰ لگا دے گا۔لیکن یہاں ابھی بعض جگہوں پر ایسے حالات نہیں ہیں۔جن علاقوں میں زمین کچھ حد تک سازگار ہو اور موافق ہو وہاں اس پیغام کے ساتھ ہمیں ضرور کوشش کرنی چاہئے۔کیونکہ اب یہی مسیح محمدی کے ماننے والوں کا کام ہے کہ حکمت کے ساتھ عیسائیوں کو بھی مسیح موسوی کے ماننے والوں کو بھی صحیح صحیح راستہ دکھائیں اور مسلمان ہونے کے دعویداروں کو بھی صحیح راستہ دکھا ئیں جو خدا کی طرف لے جانے والا راستہ ہے۔اللہ تعالیٰ سب کو اخلاص و وفا کے ساتھ کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اُن کے کاموں میں برکت ڈالے اور حکمت سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام پہنچانے کی طرف ہر ایک کی توجہ پیدا ہوا اور اس ذریعہ سے پھر ہم دنیا کو نجات دلانے والے بنیں۔الفضل انٹر نیشنل جلد 16 شمارہ نمبر 1 مورخہ 2 جنوری تا 8 جنوری 2009ء صفحہ 5 تا صفحه 8)