خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 511
511 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرموده 19 دسمبر 2008 پر سوچنے اور توجہ دلانے پر مجبور کرتی ہیں اور ہونی چاہئیں کہ علاج سے بھی بغیر علاج کے بھی شفا پانا، اور علاج کے با وجود بھی شفانہ پا نا، ان سب عوامل اور ذریعوں کے پیچھے کوئی طاقت بھی کارفرما ہے۔کوئی ایسی ہستی ہے جو شفا کے عمل کا اصل محرک اور وجہ ہے۔اور جیسا کہ میں نے کہا بعض اوقات ہر قسم کے علاج کی ناکامی کے باوجود یا علاج کے بغیر بھی اللہ تعالیٰ کے آگے فریاد کرنے والوں کی بے چین دعاؤں سے ایک انسان جو بظاہر موت کے منہ میں گیا ہوا لگتا ہے واپس آ جاتا ہے۔اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شفا کا ذریعہ صرف علاج ہی نہیں ہے بلکہ علاج یا نہ علاج دونوں صورتوں میں اللہ تعالیٰ کی ذات شفا دینے والی ہے۔اور یہی اسلام ہمیں بتا تا ہے اور اس پر ایک مومن کو کامل یقین ہونا چاہئے اور ہوتا ہے۔ایک نیک فطرت انسان تو سوچنے کے مراحل پر ہوتا ہے لیکن ایک مومن جو ہے وہ اس یقین پر قائم ہوتا ہے کہ حقیقی شافی خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔ہر مریض جو کسی بھی مومن کے سامنے شفا پاتا ہے، اللہ تعالیٰ کی صفت شافی پر اس کے یقین کو مزید مضبوط کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی شافی ذات صرف انسان تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ تمام جاندار چرند، پرند حتی کہ نباتات بھی اس کے نمونے دکھارہے ہوتے ہیں۔آج کل تو انسان ریسرچ کرتا ہے جانوروں پر بھی ریسرچ ہوتی ہے، ان کی صحت کا بھی علاج ہو رہا ہوتا ہے۔پودوں پر بھی ریسرچ ہو رہی ہے ان کا بھی علاج ہورہا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ انسان کو طریقے بتاتا ہے کہ یہ یہ ان چیزوں کے علاج ہیں۔یہ علاج کرو گے تو یہ صحت یاب ہو جائیں گے۔آج کل کی دنیا میں زراعت ہی لے کو لیں بہت سارے پودوں کی بیماریوں کی وجہ پسی لگتی ہے اور پھر ان کا علاج دریافت ہوتا ہے اور پھر ان علاجوں میں اللہ تعالیٰ نے اس کی بہتری بھی رکھی ہوتی ہے۔اسی طرح جانوروں میں، گھر یلو اور پالتو جانوروں کے علاوہ جنگلی جانوروں میں بھی یہ ریسرچ ہو رہی ہے۔لیکن انسان جو اشرف المخلوقات ہے، اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے جسمانی شفا کے ساتھ ساتھ روحانی شفا کا بھی انتظام کیا ہوا ہے اور روحانیت کی ترقی اور اپنے قریب کرنے اور روحانی بیماریوں کو دُور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء اور نیک لوگوں کو دنیا میں بھیجتا ہے۔اگر انسان اپنی عقل کا صحیح استعمال کرے تو اس بات پر اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتا چلا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح اس کی روحانی اور جسمانی شفا کے لئے سامان پیدا فرمائے ہیں۔اس وقت میں جسمانی بیماریوں سے متعلق ہی بات کروں گا کہ کس کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے شفا کا انتظام فرمایا ہوا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا اپنی دوسری مخلوق کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے انسان کو مقرر کیا ہے کہ ان کے بھی علاج کرو اور اس طرح جانوروں کی بیماریوں میں جیسا کہ میں نے کہا انسانوں کے ساتھ ساتھ بہت ریسرچ ہوتی ہے۔انسانوں کی بیماریوں پر جو تحقیق ہے اور ان کے علاج کی جو کوشش ہے اس کی تو حد اور انتہا نہیں ہے۔بڑے ملکوں میں بعض دفعہ بہت بڑی رقمیں صحت کے اوپر خرچ ہوتی ہیں۔آج کل جونئی نئی دوائیوں کی ایجادات