خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 508 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 508

508 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرموده 12 دسمبر 2008 حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ خلیفہ وقت کا دورہ تبلیغ کرنے کے لئے نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ سوچنا چاہئے۔بلکہ اُس جگہ کے براہ راست حالات جان کر وہاں تبلیغی حکمت عملی اور تبلیغ کو وسعت دینے کے لئے نئے اقدامات پر غور کرنے کے لئے ہوتا ہے اور بہر حال اس وجہ سے تبلیغ کے چند مواقع بھی مل جاتے ہیں۔تبلیغ تو ایک مسلسل عمل ہے جو وہاں رہنے والے ہی زیادہ بہتر طور پر اور تسلسل کے ساتھ کر سکتے ہیں جس علاقے کے بھی ہوں۔اور حقیقت بھی یہی ہے کہ جہاں جس علاقہ میں دورہ ہو رہا ہو براہ راست معلومات سے وہاں کے حالات کی واقفیت سے میں نے دیکھا ہے کہ مبلغین کو اور جماعت کو بعض نئے طریقوں کو اپنانے کی طرف توجہ دلانے کا بھی موقع مل جاتا ہے۔مشورے ہو جاتے ہیں۔نئی حکمت عملی اختیار کرنے کی طرف توجہ پیدا ہو جاتی ہے اور پھر دورے سے جماعتوں میں خود بھی تیزی پیدا ہو جاتی ہے جس سے وہ جماعتیں اپنے تبلیغ کے اس اہم مقصد کو سمجھنے لگ جاتی ہیں اور کم از کم کچھ عرصہ ضرور پُر جوش رہتی ہیں۔لیکن اگر علاقے کی واقفیت ہی نہ ہو تو جیسی بھی رپورٹیں آ رہی ہوں بعض دفعہ اسی پر یقین کرنا پڑتا ہے۔بہر حال ایک بات تو یہ ہے جیسا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔لیکن اس کا ایک فائدہ اور بھی ہو جاتا ہے کہ میڈیا کے ذریعہ سے آج کل دورے کی اتنی کوریج ہو جاتی ہے کہ غیروں کی بھی مخالفت میں یا موافقت میں جماعت کی طرف توجہ پیدا ہو جاتی ہے۔پھر اس وجہ سے جماعت کے افراد اور نظام جماعت کو بھی کچھ نہ کچھ تیز ہونا پڑتا ہے گویا ان غیر لوگوں کی وجہ سے پھر سوئے ہوئے احمدیوں کو یائست جماعتوں کو جاگنا پڑتا ہے۔تو جیسا کہ میں نے بتایا کہ ایسے اخباروں میں جماعت کا تعارف آ گیا ہے جس کی اشاعت کروڑوں میں ہے تو اب اس تعارف سے جماعت کو فائدہ اٹھانا چاہئے۔یہ انتظار نہ کریں کہ ہمیں منفی یا مثبت رد عمل ظاہر کر کے جگائیں گے یا یہ نہ کریں کہ خاموش بیٹھے رہیں کہ ٹھیک ہے کچھ عرصہ خاموش رہو۔اگر کوئی ری ایکشن ظاہر ہوا بھی ہے تو خود بخود معاملہ ٹھنڈا ہو جائے گا۔اس موقع سے وہاں کی جماعتوں کو فائدہ اٹھانا چاہئے۔اپنے پیغام پہنچانے کے ذریعہ تبلیغ کے ذریعہ، جو بھی رد عمل ہے اس کو یا جو بھی ایک بلبل آپ کے اندر پیدا ہوئی ہے یا جوش پیدا ہوا ہے اس کو کبھی ٹھنڈا نہ ہونے دیں۔اگر مخالفت ہوئی ہے تو شرفاء بھی ہیں جو سننے کے لئے تیار ہیں۔دنیا چاہتی ہے کہ امن قائم کرنے والے لوگ منظم طریقہ سے کام کرنے والے کوئی لوگ سامنے آئیں۔پس احمدیوں کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اپنے کام میں تیزی اور وسعت پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔جنوبی ہندوستان کے ان علاقوں کی تاریخ مذہب سے جڑی ہوئی ہے۔انشاء اللہ اگر صحیح منصوبہ بندی کر کے تبلیغ کے کام کو تیز کریں گے تو اللہ تعالیٰ بہتر نتیجے پیدا فرمائے گا۔مسیح محمدی کے ماننے والوں کا یہی کام ہے کہ اس طریق پر چلیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قائم فرمایا ہے۔پیار محبت نرمی کے ذریعہ سے اس پیغام کو ہر شخص تک پہنچادیں جس طرح آپ پہنچانا چاہتے تھے۔