خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 500 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 500

خطبات مسرور جلد ششم 500 (50) خطبہ جمعہ فرموده 12 دسمبر 2008 فرمودہ مورخہ 12 دسمبر 2008ء بمطابق 12 فتح 1387 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: گزشتہ دو جمعے تو میں نے ہندوستان میں پڑھائے تھے۔ایک کالیکٹ میں جو جنوبی ہندوستان کے صوبہ کیرالہ کا ایک شہر ہے اور دوسرا دہلی میں اور پھر جیسا کہ آپ جانتے ہیں بعض حالات کی وجہ سے میں اپنا دورہ مختصر کر کے واپس آ گیا۔عموما میں اپنے دورے سے واپسی پر دورے کے مختصر حالات بیان کیا کرتا ہوں۔ان حالات کو سننے کے لئے دنیا میں بیٹھے ہوئے احمدیوں کو بھی عادت ہو گئی ہے۔ان کی خواہش ہوتی ہے اور جن جگہوں کا دورہ کیا جاتا ہے انہیں بھی یہ سننے کا شوق ہوتا ہے کہ ہمارے بارہ میں کچھ بیان کیا جائے۔گو کہ میں نے کیرالہ کے دورہ کے دوران ہی بلکہ کالی کٹ کے خطبہ میں ہی اس علاقہ کی اہمیت، اس علاقہ میں مذہب کی تاریخ کے حوالہ سے مختصر آبا تیں کر دی تھیں اور اُن لوگوں کو اُن کی ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلا دی تھی۔ان کے اخلاص و وفا کا بھی ذکر کر دیا تھا۔لیکن اپنے دورہ کے حوالے سے مزید کچھ باتیں اختصار کے ساتھ بیان کروں گا۔کیرالہ جانے سے پہلے ہی راستے میں ہم چنائی (Chenai) جو پہلے مدراس (Madras) کہلاتا تھا وہاں ر کے تھے۔گو کہ قیام چند گھنٹوں کا تھا لیکن وہاں لجنہ کا بھی اچھا پروگرام ہو گیا جس میں مختصراً ان کی ذمہ داریوں کی طرف ان کو توجہ دلا دی اور ہماری ایک نئی مسجد جو ماؤنٹ تھومس Mount Thomas) میں بنی ہے، اس کا بھی افتتاح کیا۔چنائی کی جماعت اتنی چھوٹی بھی نہیں، چند سونفوس پر مشتمل ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے اخلاص و وفا میں پرش بہت بڑھی ہوئی جماعت ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایم ٹی اے کی جو نعمت اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائی ہے اس نے جماعتوں میں وحدت اور خلافت سے ایک تعلق کوٹ کوٹ کر بھر دیا ہے۔یہ علاقہ جو قادیان سے تقریباً 2 ہزار میل کے فاصلے پر ہے۔بہت سے ایسے احمدی لوگ ہیں جو کبھی قادیان بھی نہیں گئے ہوں گے، اُن سب کی نظر میں خلافت کے لئے وفا ہے۔ان کا ایک ڈسپلن ، ایک جماعتی وقار کا اظہار اور جماعت سے تعلق بہت زیادہ نظر آتا تھا۔اس کی ایک وجہ تو بڑوں کی تربیت ہے۔کیونکہ اس علاقہ میں بھی بہت سے بزرگ گزرے ہیں۔دوسرے ایم ٹی اے کا بھی کردار ہے جیسا کہ میں نے کہا نظمیں ہیں۔نظمیں پڑھنے کا انداز ہے۔دنیا میں اب ہر جگہ تقریباً ایک جیسا ہو گیا ہے، چاہے وہ افریقہ ہے یا ایشیا ہے یا یورپ ہے۔یہ تعلق اور وحدت اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں روز بروز بڑھتا