خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 499
خطبات مسرور جلد ششم 499 خطبه جمعه فرموده 5 دسمبر 2008 رکھیں اور یہاں اس ملک ہندوستان میں رہنے والے احمدی بھی اپنے لئے بھی دعا ئیں کریں اور یہاں کے بسنے والوں کے لئے بھی کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو ہر ظلم سے محفوظ رکھے۔دنیا اپنے پیدا کرنے والے خدا کو پہچانے۔انسان ،انسان کا حق ادا کرنے والا بنے۔مذہب کے نام پر یا ذاتی مفادات کی خاطر جو ظلم ہورہے ہیں اللہ تعالیٰ ان تمام لوگوں کو جو اس میں ملوث ہیں اپنی پکڑ میں لے اور ان کو عبرت کا نمونہ بنائے۔پاکستان کے احمدی بھی بعض لحاظ سے محرومی کا شکار ہیں یا محرومی سے گزر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی محرومیاں بھی دور فرمائے۔ہر ایک کو اپنی حفظ وامان میں رکھے اور اللہ تعالیٰ دنیا میں ہر شخص کو اور اپنی ہر مخلوق کو جو انسانیت کے نام پر انسان ہونے کا دعوی کرتے ہیں حقیقی انسانیت پر قائم کر دے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ ثانیہ میں فرمایا: ابھی نمازوں کے بعد میں ایک نماز جنازہ غائب پڑھاؤں گا جو مکرمہ امتہ الرحمن صاحبہ اہلیہ چوہدری محمد احمد صاحب درویش مرحوم کا ہے۔3 دسمبر 2008ء کو قادیان میں وفات پاگئی تھیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔مرحومہ موصیہ تھیں اور 91 سال کی عمر پائی اور درویشی کا زمانہ اپنے میاں کے ساتھ انتہائی صبر اور شکر کے ساتھ گزارا۔بڑی نیک خاتون تھیں۔کئی خوبیوں کی مالک تھیں۔نمازوں کی پابندی، چندوں میں با قاعدگی ، باوجود کم وسائل کے غریبوں کی مدد کرنے والی اور پھر جب حالات اچھے ہوئے تب بھی غریبوں کی مدد کر نے والی مخلص خاتون تھیں۔ایک لمبے عرصے تک بطور سیکرٹری مال خدمت کی توفیق بھی پائی۔مرحومہ کے ایک بیٹے کینیڈا میں مکرم بشیر احمد صاحب ناصر فوٹو گرافر ہیں جو یہاں آئے ہوئے تھے۔میرے ساتھ پھر رہے تھے ابھی۔واپس چلے گئے ہیں۔ان کے علاوہ اور بچے بھی ہیں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا۔اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے۔ان سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور ان کے بچوں کو اور لواحقین کو صبر عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 15 شماره 52 مورخہ 26 دسمبر 2008 تا یکم جنوری 2009 صفحه 5 تا صفحه 7)