خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 501
501 خطبہ جمعہ فرموده 12 دسمبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم چلا جا رہا ہے۔میں نے یہاں بڑوں کی تربیت کا ذکر کیا تھا، اس ضمن میں یہ بتا دوں کہ چنائی شہر میں یا اس علاقہ میں احمدیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں پہنچی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے 16 صحابہ کا تاریخ میں ذکر ملتا ہے۔اُن کی اولاد میں اور اُن کی نسلیں ہیں جواب احمدیت پر قائم ہیں۔پھر نئے احمدی بھی ہیں۔ماؤنٹ تھومس میں میں نے مسجد کا ذکر کیا ہے تو اس جگہ مذہب کی بھی مختصر تاریخ بتا دوں۔یہاں کی عیسائیت کی تاریخ کے مطابق تھو ما حواری جو حضرت مسیح علیہ السلام کے حواری تھے ، وہ 52 عیسوی میں اس علاقہ میں آئے تھے اور کیرالہ سے ہوتے ہوئے وہاں پہنچے تھے۔یہ ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے جسے ماؤنٹ تھومس کہتے ہیں جہاں ایک چرچ بھی ہے۔یہاں انہوں نے زندگی کے 15-16 سال گزارے اور یہیں ان کو کسی دشمن نے قتل کر دیا تھا اور و ہیں وہ چرچ میں دفن ہوئے۔پھر ان کی لاش بعد کے کسی زمانہ میں ویٹیکن (Vatican) لے جائی گئی۔بہر حال تھو ما حواری کا یہاں آنے کا مقصد یہی لگتا ہے کہ اسرائیل کی جو گمشدہ بھیڑیں تھیں۔یعنی جو ( گمشدہ) قبیلے تھے ان کی تلاش کر کے ان کو عیسائیت کا پیغام پہنچایا جائے۔حضرت تھو ما حواری جو ہیں، ان کے بارہ میں یہ بھی ہے کہ انہوں نے حضرت عیسی کے ساتھ صلیب کے واقعہ کے بعد سفر کیا تھا۔یہ واحد تھے جن کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی براہین احمدیہ حصہ پنجم میں لکھا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت عیسی کے صلیب سے زندہ بچ جانے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عیسائی اس بات کے خود قائل ہیں کہ بعض حواری ان دنوں میں ملک ہند میں ضرور آئے تھے اور دھوما حواری کا مدراس میں آنا اور اب تک مدراس میں ہر سال اس کی یاد گار میں عیسائیوں کا ایک اجتماع میلہ کی طرح ہونا یہ ایسا امر ہے کہ کسی واقف کار سے پوشیدہ نہیں“۔( ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 350-351) اس کے علاوہ ملفوظات میں بھی تھو ما حواری کے حوالہ سے آپ نے ذکر فرمایا۔ایک جگہ فرمایا کہ جس طرح آنحضرت یہ ہجرت کے وقت صرف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے تھے اسی طرح حضرت عیسی بھی ہجرت کے وقت تھو ما حواری کے ساتھ نکلے تھے اور وجہ اس کی یہ تھی کہ لوگوں کو زیادہ پتہ نہ لگے تا کہ احتیاط کے ساتھ سفر طے ہو اور اسی طرح سفر کرتے ہوئے پھر وہ کشمیر پہنچے تھے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد چہارم صفحہ 389-390 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ) کیرالہ میں یہودیت کی بھی تاریخ ہے اس کے بارہ میں بھی بتا دوں۔یہاں یہودی بہت عرصہ پہلے آ کے آباد ہوئے تھے۔ان کو تبلیغ کے لئے حضرت عیسی کے حواری کا آنا ضروری تھا تا کہ پیغام پہنچ جاتا اور یہ قبیلہ بھی اس پیغام سے محروم نہ رہ جاتا جو حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام لے کر آئے تھے۔