خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 34 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 34

خطبات مسرور جلد ششم 34 خطبه جمعه فرمودہ 18 جنوری 2008 کے انتظار کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ عظیم نظارہ دکھایا اور اس پیشگوئی کو کس شان سے پورا فرمایا۔پس یہ ہیں اُس عالم الغیب خدا کے علم کی باتیں جنہیں اس نے قرآن کریم کے ذریعہ آنحضرت ﷺ پر ظاہر فرمایا۔پھر کائنات کے بارہ میں علم دیا کہ کس طرح ہماری کائنات وجود میں آئی۔فرماتا ہے اَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَواتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيِّ۔أَفَلَا يُؤْمِنُونَ (الانبیاء: 31) کیا انہوں نے دیکھا نہیں جنہوں نے کفر کیا کہ آسمان وزمین دونوں مضبوطی سے بند تھے۔پھر ہم نے ان کو پھاڑ کر الگ کر دیا۔اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی تو کیا وہ ایمان نہیں لائیں گے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ” قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے اور حال کی تحقیقا تیں بھی اس کی مُصدّق ہیں کہ عالم کبیر بھی اپنے کمال خلقت کے وقت ایک گھڑی کی طرح تھا“۔بند تھا۔”جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔اس آیت میں جومیں نے پڑھی۔یعنی کہ " کیا کافروں نے آسمان اور زمین کو نہیں دیکھا کہ گٹھڑی کی طرح آپس میں بندھے ہوئے تھے اور ہم نے ان کو کھول دیا“۔( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 191-192 حاشیہ) پس یہ علم 1400 سال سے قرآن کریم میں محفوظ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ظاہر ہوا۔سائنسدانوں نے بگ بینگ (Big Bang) کا نظریہ دیا یعنی ایک زبردست دھما کہ اور اس کے بعد یہ سب کائنات وجود میں آئی ، سیارے وجود میں آئے۔یہ بڑا تفصیلی مضمون ہے۔بہر حال مقصد یہ ہے کہ قرآن کریم نے جس بات کی خبر 1400 سال پہلے دی تھی اسے آج کا سائنسدان ثابت کر رہا ہے۔پھر پانی سے انسان کی زندگی ہے۔بہت ساری پیشگوئیاں ہیں۔پھر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ (الذاريت : 48 ) اور ہم نے آسمان کو ایک خاص قدرت سے بنایا ہے اور یقیناً ہم وسعت دینے والے ہیں۔اب اس آیت کے بھی مختلف ترجمے ہمارے اپنے تراجم قرآن کریم میں ملتے ہیں کیونکہ جس جس طرح انسان کو علم تھا اس کے مطابق ترجمہ ہوتارہا۔اور پھر سائنس کی ترقی کے ساتھ اس کے مزید معنی کھلے۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس کے معنی کئے ہیں کہ ہم نے آسمان کو خاص قدرت سے بنایا اور یقیناً ہم اسے وسعت دینے والے ہیں۔یہ وسعت کا تصور بھی ایک سائنس دان Edwin Hubble تھے اس کے تجربات نے دیا۔اس نے یہ تجربات کئے تھے۔اس نے پہلی دفعہ کائنات کے پھیلنے کی بات کی تھی۔اور اب جونئی تحقیق آرہی ہے ، چند مہینے پہلے ایک رسالے میں تھا اس میں یہ کہتے ہیں کہ اب جو چیز دیکھنے میں آرہی ہے کہ یہ وسعت پذیری کی رفتار جو ان کے علم میں پہلے تھی اس سے کئی گنا بڑھ گئی ہے۔یا بڑھی ہوئی تھی تو ان کو پتہ ہی نہیں لگا۔ان نئے آلات کی وجہ سے شاید اب معلوم ہوا ہے۔لیکن بہر حال وسعت پذیری ثابت ہے اور اب تو بہت واضح ہو کے نظر آ رہی ہے۔بہر حال جو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ آسمانوں کو بھی ہم نے خاص قدرت سے ہی بنایا ہے۔یہ بھی اس آیت کا ترجمہ ہے کہ خاص قدرت سے بنایا اور کئی صفات شامل ہیں۔یعنی آسمان کی وسعت اور اجرام کے سفر پر اللہ تعالیٰ کی مختلف صفات کام کر رہی ہیں جن میں کچھ کا تو انسان اور اک حاصل کر لیتا ہے لیکن مکمل احاطہ نہیں کر سکتا۔