خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 33 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 33

خطبات مسرور جلد ششم 33 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 جنوری 2008 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” خدا تعالیٰ نے عدل کے بارہ میں جو بغیر سچائی پر پورا قدم مارنے کے حاصل نہیں ہوسکتی فرمایا ہے لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى إِلَّا تَعْدِلُوا۔اِعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ للتقوى ( المائده: 9) یعنی دشمن قوموں کی دشمنی تمہیں انصاف سے مانع نہ ہو، انصاف پر قائم رہو ، تقومی اسی میں ہے“۔فرماتے ہیں کہ : ” اب آپ کو معلوم ہے جو تو میں ناحق ستاویں اور دکھ دیویں اور خونریزیاں کریں اور تعاقب کریں اور بچوں اور عورتوں کو قتل کریں جیسا کہ مکہ والے کافروں نے کیا تھا اور پھر لڑائیوں سے باز نہ آویں ،ایسے لوگوں کے ساتھ معاملات میں انصاف کے ساتھ برتاؤ کرنا کس قدر مشکل ہوتا ہے۔مگر قرآنی تعلیم نے ایسے جانی دشمنوں کے حقوق کو بھی ضائع نہیں کیا اور انصاف اور راستی کے لئے وصیت کی۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ دشمن سے مدارات سے پیش آنا آسان ہے مگر دشمن کے حقوق کی حفاظت کرنا اور مقدمات میں عدل وانصاف کو ہاتھ سے نہ دینا یہ بہت مشکل اور فقط جوانمردوں کا کام ہے۔“ ( نور القرآن نمبر 2۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 409) اسلام یہ جوانمردی اپنے سب ماننے والوں میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے کہ تمہارا حسن سلوک اور عدل و احسان دشمنوں کو بھی دوست بنا سکتا ہے۔پھر حکمت کے ایک معنی یہ ہیں کہ علم کو کامل کرنا۔یعنی آنے والا رسول علم کو بھی اپنے پر اُتری ہوئی تعلیم کی وجہ سے کامل کرے گا۔قرآن کریم کا دعویٰ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے فرمایا اليَومَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي (المائدہ:4) یعنی تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمتیں اور احسان پورے کر دئے۔اس بارہ میں گزشتہ خطبہ میں بتا چکا ہوں۔پس اس عظیم رسول پر اس پر حکمت تعلیم کو اللہ تعالیٰ نے کامل کر دیا ہے۔یہاں صرف علم کے کامل اور مکمل ہونے کی اس زمانے سے متعلق جو پیشگوئیاں ہیں ان کا میں اس وقت ذکر کروں گا ، جو پوری ہوئیں۔اس کامل علم رکھنے والے خدا نے جو باتیں اس عظیم رسول مہ کو بتائیں اور اس کتاب میں جن کا ذکر ہوا جن میں سے بعض ایسی ہیں کہ چودہ سو سال تو دور کی بات ہے ، ماضی قریب کا انسان بھی اس بارہ میں سوچ نہیں سکتا تھا۔بہت ساری پیشگوئیاں ہیں۔میں یہاں ایک بیان کر رہا ہوں مثلاً سورۃ رحمن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِين (الرحمن: 20) کہ وہ دونوں سمندروں کو ملادے گا جو بڑھ بڑھ کر ایک دوسرے سے ملیں گے۔بَيْنَهُمَا بَرُزَخٌ لَّا يَبْغِينِ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَان يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانِ (الرحمن : 21-23 )۔کہ (سر دست ) اُن ( دونوں سمندروں) کے درمیان ایک روک ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کر سکتے۔پس (اے جن وانس ) تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے۔دونوں میں سے موتی اور مرجان نکلتے ہیں۔اب اس میں دوسمندروں کو ملانے کا ذکر ہے اور نشانی یہ بتائی کہ ان میں سے موتی اور مونگے یا مرجان نکلتے ہیں۔ایک تو نہر سویز کے ذریعہ سے دونوں سمندروں کو ملایا۔RedSea اور میڈ یٹرینین سی (Mediterian Sea) کو۔اسی طرح پا نامہ نہر نے دوسمندروں کو ملایا۔اور اس طرح بڑے سمندر آپس میں مل گئے۔اب یہ علم آنحضرت کو خدا نے اس وقت دیا جب کسی کو اس بات کا علم نہیں تھا۔علم تو علیحدہ بات ہے اس وقت کے زمانے کے عربوں کی تو سوچ بھی یہاں تک نہیں پہنچ سکتی تھی کہ کس جگہ پر سمندر ہوں گے اور کس طرح ملائے جائیں گے اور پھر 1300 سال