خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 32 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 32

32 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرمودہ 18 جنوری 2008 الْقُرُبی کے بَغِی بن جائے گا۔یعنی وہ بے محل ہمدردی کا جوش ایک بُری صورت پیدا کرے گا۔اصل میں بَغِی اس بارش کو کہتے ہیں جو حد سے زیادہ برس جائے اور کھیتوں کو تباہ کر دے اور یا حق واجب سے افزونی کرنا بھی بعی ہے۔کمی یا زیادتی جو بھی ہوگی۔غرض ان تینوں میں سے جو حل پر صادر نہیں ہوگا وہی خراب سیرت ہو جائے گی۔اسی لئے ان تینوں کے ساتھ موقع اور محل کی شرط لگادی ہے۔اس جگہ یادر ہے کہ مجر وعدل یا احسان یا ہمدردی ذی القربی کو خلق نہیں کہہ سکتے بلکہ انسان میں یہ سب طبعی حالتیں اور طبعی قو تیں ہیں کہ جو بچوں میں بھی وجود عقل سے پہلے پائی جاتی ہیں۔مگر خلق کے لئے عقل شرط ہے اور نیز یہ شرط ہے کہ ہر ایک طبعی قوت محل اور موقعہ پر استعمال ہو“۔(اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 353-354 ) یہ ساری چیزیں اور طاقتیں جو اللہ تعالیٰ نے دی ہیں۔عدل کرو گے ، انصاف کرو گے، احسان کرو گے، یہ سب چیزیں اگر عقل کے بغیر استعمال ہورہی ہیں، موقع ومحل کے حساب سے استعمال نہیں ہور ہیں تو یہ کوئی اچھے اخلاق نہیں ہیں۔تو یہ قرآن کریم کی پر حکمت تعلیم ہے جو معاشرے میں قیام عدل کے لئے مزید راستے دکھاتی ہے۔اگر ایک عادی چور کو جس کے معاملے میں سختی کا حکم ہے اگر چھوڑ دیں گے تو یہ عدل نہیں ہے۔لیکن ایک بھوکے کے لئے جو اپنی بھوک مٹانے کے لئے روٹی چراتا ہے سزا کی بجائے روٹی کا انتظام ضروری ہے، یہ عدل ہے تا کہ اس کا اور اس کے بیوی بچوں کا پیٹ بھرے اور یہ احسان کرنے سے پھر عدل قائم ہوگا۔لیکن اگر یہی روٹی چرانے والا ایک عادی چور بن 1۔جاتا ہے تو پھر اس کو سزا دینا عدل ہے۔تو ہر موقع کے لحاظ سے جو عمل ہوگا وہ اصل میں عدل ہے۔قرآن کریم کی تعلیم کا خلاصہ توحید کا قیام اور حقوق العباد کی ادائیگی ہے اور اس کے لئے جو انسانی سوچ ہے اس میں عدل کا عصر پیدا کرنا ضروری ہے۔اس بات کو ذہن میں بٹھانے کے لئے اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُوْنُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ۔وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا۔اِعْدِلُوا۔هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (المائدۃ آیت 9) کہ اے وے لوگو جوایمان لائے ہو۔اللہ تعالیٰ کی خاطر مضبوطی سے نگرانی کرتے ہوئے انصاف کی تائید میں گواہ بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تم کو ہرگز کسی بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔انصاف کرو یہ تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو۔یقیناً اللہ اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے جو تم کرتے ہو۔تو یہ ہے عدل اور انصاف کی خوبصورت اور پُر حکمت تعلیم۔پہلی بات یہ بتائی کہ اگر ایمان کا دعوی ہے ،مومن کہلاتے ہو تو مومن تو ہمیشہ انصاف کی تائید میں کھڑا ہوتا ہے۔اس کا کام تو اللہ تعالیٰ کے احکامات کی روشنی میں عدل کا قیام ہے۔اگر یہ سوچ رکھنے والے ہو تو مومن ہو کیونکہ اس کے بغیر ایمان ناقص ہے۔پھر فرمایا کہ جب یہ سوچ بن جائے گی تو پھر عدل وانصاف تمہارے اندر سے پھوٹے گا اور جب دل کی آواز اللہ تعالیٰ کی رضا بن جائے ، اس کی تعلیم پر عمل کرنے والی بن جائے تو پھر کسی قسم کی دشمنی انصاف کے تقاضے پورے کرنے سے ایک مومن کو کبھی نہیں روکے گی۔پس مومن کا کام ہے کہ تقویٰ پر قدم مارتے ہوئے ہمیشہ انصاف کے تقاضے پورے کرے۔اللہ تعالیٰ اسی ضمن میں فرماتا ہے کہ اگر تم تقویٰ سے کام نہیں لو گے تو یادر کھوکہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات بھی چھپی ہوئی نہیں ہے۔ایسا شخص جو اس عظیم تعلیم کو پا کر بھی اس پر عمل نہیں کرتا حقیقی مومن نہیں کہلا سکتا۔پس یہ عدل قائم کرنے کی ایسی خوبصورت تعلیم ہے جو صرف قرآن کریم کا ہی خاصہ ہے۔