خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 31
خطبات مسرور جلد ششم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: 31 خطبه جمعه فرموده 18 جنوری 2008 اللہ تعالی) کا یہ کم ہے کہ نیکی کے مقابل پر نیکی کرو اور اگر عدل سے بڑھ کر احسان کا موقع اور ل ہو تو وہاں احسان کرو۔اور اگر احسان سے بڑھ کر قریبوں کی طرح طبعی جوش سے نیکی کرنے کا محل ہو تو وہاں طبعی ہمدردی سے نیکی کرو۔اور اس سے خدا تعالیٰ منع فرماتا ہے کہ تم حدود اعتدال سے آگے گزر جاؤ۔یا احسان کے بارہ میں منکرانہ حالت تم سے صادر ہو جس سے عقل انکار کرے۔یعنی یہ کہ تم بے محل احسان کرو یا بر محل احسان کرنے سے دریغ کرو۔یا یہ کہ تم حل پر ایتَاءِ ذِي الْقُرُبی کے خُلق میں کچھ کمی اختیار کرو۔یعنی غلط وقت پر احسان کرنا بھی غلط ہے۔اور اگر موقع اور محل ہو اور پھر احسان کا موقع ہو اس وقت احسان نہ کرنا بھی غلط ہے اور پھر یہ کہ جس طرح قریبوں سے سلوک کرتا ہے، جس طرح ماں بچے سے سلوک کرتی ہے اس طرح کے اخلاق دکھاؤ اور اگر اخلاق میں کوئی کمی ہوتی ہے تو یہ غلط طریقہ ہے۔آپ فرماتے ہیں: "تم محل پر ایتاءِ ذِی القربی کے خلق میں کچھ کی اختیار کر ویا حد سے زیادہ رحم کی بارش کرو۔اس آیت کریمہ میں ایصال خیر کے تین درجوں کا بیان ہے۔اول یہ درجہ کہ نیکی کے مقابلے پر نیکی کی جائے۔یہ تو کم درجہ ہے اور ادنی درجہ کا بھلا مانس انسان بھی یہ خلق حاصل کر سکتا ہے کہ اپنے نیکی کرنے والوں کے ساتھ نیکی کرتار ہے۔دوسرا درجہ اس سے مشکل ہے اور وہ یہ کہ ابتداء آپ ہی نیکی کرنا اور بغیر کسی کے حق کے احسان کے طور پر اس کو فائدہ پہنچانا۔اور یہ خلق اوسط درجہ کا ہے۔اکثر لوگ غریبوں پر احسان کرتے ہیں اور احسان میں ایک میخفی عیب ہے کہ احسان کرنے والا خیال کرتا ہے کہ میں نے احسان کیا اور کم سے کم وہ اپنے احسان کے عوض میں شکریہ یا دعا چاہتا ہے۔اور اگر کوئی ممنونِ منت اس کا مخالف ہو جائے تو اس کا نام احسان فراموش رکھتا ہے۔جس کسی پر احسان کیا جاتا ہے اور وہ مخالف ہو جائے تو اس کو احسان فراموش کہتے ہیں۔بعض وقت اپنے احسان کی وجہ سے اس پر فوق الطاقت بوجھ ڈال دیتا ہے۔یا پھر یہ ہے کہ اگر کوئی احسان کیا ہے تو اس کی طاقت سے زیادہ اس پر بوجھ ڈال دیتے ہیں۔یہ بھی انصاف کے خلاف ہے، عدل کے خلاف ہے۔اور اپنا احسان اس کو یاد دلاتا ہے۔جیسا کہ احسان کرنے والوں کو خدا تعالیٰ نے متنبہ کرنے کے لئے فرمایا ہے لَا تُبْطِلُوا صَدَقَتِكُمُ بِالْمَنِّ وَالا ذى (البقره - 265) یعنی اے احسان کرنے والو! اپنے صدقات کو جن کی صدق پر بنا چاہئے احسان یاد دلانے اور دکھ دینے کے ساتھ بربادمت کرو۔یعنی صدقہ کا لفظ صدق سے مشتق ہے۔پس اگر دل میں صدق اور اخلاص نہ رہے تو وہ صدقہ صدقہ نہیں رہتا بلکہ ایک ریا کاری کی حرکت ہوتی ہے۔غرض احسان کرنے والے میں یہ ایک خامی ہوتی ہے کہ کبھی غصہ میں آکر اپنا احسا ن بھی یاد دلا دیتا ہے۔اسی وجہ سے خدائے تعالیٰ نے احسان کرنے والوں کو ڈرایا۔تیسرا درجہ ایصال خیر کا خدائے تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ بالکل احسان کا خیال نہ ہو اور نہ شکر گزاری پر نظر ہو بلکہ ایک ایسی ہمدردی کے جوش سے نیکی صادر ہو جیسا کہ ایک نہایت قریبی مثلاً والدہ محض ہمدردی کے جوش سے اپنے بیٹے سے نیکی کرتی ہے۔یہ وہ آخری درجہ ایصال خیر کا ہے جس سے آگے ترقی کرنا ممکن نہیں۔لیکن خدائے تعالیٰ نے ان تمام ایصال خیر کی قسموں کو حل اور موقعہ سے وابستہ کر دیا ہے اور آیت موصوفہ میں صاف فرما دیا ہے کہ اگر یہ نیکیاں اپنے اپنے محل پر مستعمل نہیں ہوں گی تو پھر یہ بدیاں ہو جائیں گی۔بجائے عدل فَحْشَاء بن جائے گا “۔یہ عدل نہیں رہے گا بلکہ برائیاں بن جائیں گی۔یعنی حد سے اتنا تجاوز کرنا کہ ناپاک صورت ہو جائے“۔اور فرمایا کہ اور ایسا ہی بجائے احسان کے منکر کی صورت نکل آئے گی یعنی وہ صورت جس سے عقل اور کا شنس انکار کرتا ہے۔اور بجائے ایتَاءِ ذِى