خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 30
30 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 جنوری 2008 خطبات مسرور جلد ششم نہیں تھا۔آنحضرت ﷺ نے اپنے جسم مبارک سے کپڑا اٹھایا اور کہا لو مارلو۔صحابہ نے جب یہ نظارہ دیکھا تو بے اختیار سب رونے لگ گئے۔کس طرح برداشت کر سکتے تھے کہ آنحضرت مہ کو کچھ ہو۔سب کے سانس رُکے ہوئے تھے لیکن کچھ کر نہیں سکتے تھے۔لیکن دوسرے ہی لمحے انہوں نے جو نظارہ دیکھا وہ تو ایک عاشق و معشوق کی محبت کا نظارہ تھا۔عکاشہ آگے بڑھے اور آپ کے جسم مبارک کو چومنے لگے اور کہتے جاتے تھے میرے ماں باپ آپ پر قربان۔آپ سے بدلہ لینا کون گوارا کر سکتا ہے۔ہمیں تو آپ نے عدل کے نئے نئے اسلوب سکھائے ہیں۔ہم تو سوچ بھی نہیں سکتے کہ آپ کبھی ظلم کر سکتے ہیں یازیادتی کر سکتے ہیں۔یہ تو پیار کرنے کا ایک موقع تھا جسے میں ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔لیکن دیکھیں کہ عدل کے اس شہزادے کا کیا خوبصورت جواب تھا۔آپ نے فرمایا کہ یا تو بدلہ لینا ہوگا یا معاف کرنا ہوگا۔عکاشہ نے کہا یا رسول اللہ ! میں نے اس امید پر آپ کو معاف کیا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مجھے معاف کرے گا۔اس پر آنحضرت عملے نے اس سارے مجمع کو جو لوگ سامنے بیٹھے ہوئے تھے مخاطب ہو کر فرمایا کہ جو آدمی جنت میں میرے ساتھی کو دیکھنا چاہتا ہے وہ اس بوڑھے عکاشہ کو دیکھ لے۔اور پھر وہی صحابہ جوعکاشہ کے لئے سخت غم وغصہ کی حالت میں بیٹھے تھے اُٹھ اُٹھ کر انہیں چومنے لگے اور ان کی قسمت پر رشک کرنے لگے۔تو یہ تھا اس عظیم رسول کا عدل کہ ایک ادنی چاکر کے سامنے بھی اپنے آپ کو بدلہ کے لئے پیش کر دیا اور فرمایا کہ اگر بدلہ نہیں لینا تو پھر معاف کرنا ہوگا۔یہاں اس مجمع میں اعلان کرنا ہوگا کہ معاف کیا۔(المعجم الكبير ابوالقاسم سلیمان بن احمد الطبرانی الجزء الثالث صفحہ 61-59 دارا حیاء التراث العربی) تو یہ نمونے آپ نے عدل کے قائم کئے۔بہت سارے نمونے اور مثالیں اور بھی ہیں۔اور پھر اپنے صحابہ کو بھی اس کی تلقین فرماتے رہے کیونکہ قرآن کریم میں عدل پر بڑا زور دیا گیا ہے۔اب میں قرآن کریم کی تعلیم کے حوالے سے ایک دو آیات اس بارہ میں پیش کرتا ہوں جن میں عدل قائم کرنے کی تعلیم ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيْتَائِ ذِي الْقُرُبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ۔يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (النحل: 91)۔یقینا اللہ تعالیٰ عدل کا ، احسان کا اور اقرباء پر کئے جانے والی عطا کی طرح عطا کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی اور نا پسندیدہ باتوں اور بغاوت سے منع کرتا ہے۔وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تا کہ تم عبرت حاصل کرو۔یہ ایک ایسی پر حکمت تعلیم ہے کہ اگر اس پر عمل کیا جائے تو معاشرتی مسائل بھی حل ہو جائیں گے اور قومی اور بین الاقوامی مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔ایسا عدل جو حکمت کے تحت کیا جائے وہ وہی عدل ہے جس میں نیکی کے معیار بڑھیں۔عدل کے بعد محبت اور پیار پیدا ہوا اور معاشرہ برائیوں سے بچنے کی کوشش کرے اور جب برائیوں سے بچیں گے تو پھر عدل کے مزید نئے معیار قائم ہوں گے۔حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ ہو گی۔عدل صرف بدلہ لے کر ہی قائم نہیں ہوتا بلکہ بعض حالات میں احسان کرنے سے ہوتا ہے۔پھر مزید پیار اور محبت کے جذبات سے ہوتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے برائیوں کو چھوڑنے اور نیکیوں پر قائم ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ورنہ صرف عارضی بدلہ لے لینا، کسی کو سزا دے دینا، یہ دنیاوی عدل تو ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے جو اصول ہیں، جو تعلیم ہے ، اس کے مطابق صرف یہ عدل نہیں ہے۔کیونکہ ان سے بعض اوقات اصلاح نہیں ہوتی بلکہ دشمنیاں بڑھتی ہیں ، ناراضگیاں پیدا ہوتی ہیں، رنجشیں پیدا ہوتی ہیں، کینے اور بغض بڑھتے ہیں۔پس عدل وہ ہے جس کا فیصلہ موقع محل کی مناسبت ہو۔