خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 29
29 خطبه جمعه فرمودہ 18 جنوری 2008 خطبات مسرور جلد ششم دوسروں پر ترجیح دیتے ہوئے آنحضرت ﷺ نے زیادہ مال تقسیم کیا۔اس پر کسی نے اعتراض کیا کہ عدل سے کام نہیں لیا گیا۔اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا رسول اگر عدل سے کام نہیں لے گا تو اور کون لے گا۔یہ زائد مال جو دیا گیا تھا دراصل آنحضرت علیہ نے تالیف قلب کے لئے ان سرداروں کو عطا فرمایا تھا تا کہ یہ سردارانِ عرب اسلام کے قریب ہوں۔چنانچہ وہ اور ان کے قبائل اسلام کے قریب ہوئے بلکہ قبول کیا۔اور یہ جوحصہ زائد دیا گیا تھا یہ کسی پر زیادتی کر کے نہیں دیا گیا تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے شمس ، مال غنیمت کا پانچواں حصہ، جواللہ اور رسول کے لئے مختص کیا ہوا ہے۔جس میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دینے کا رسول ﷺ کو اختیار دیا گیا ہے۔آپ نے ایک دفعہ فرمایا کہ بعض لوگوں کو جو میں زائد دیتا ہوں وہ ان کی ایمانی کمزوری کی وجہ سے دیتا ہوں اور ان کے حرص کی وجہ سے دیتا ہوں۔جو ایمان میں مضبوط ہیں انہیں میں بعض حالات میں کم دیتا ہوں اور فرمایا کہ یہ جو ایمان والے ہیں مجھے زیادہ عزیز ہیں، مجھے زیادہ پیارے ہیں۔پس یہ جو کسی کو زیادہ دینا تھا ایک تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے عین مطابق تھا جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔دوسرے حکمت کے تحت تھا یعنی ایسا پر حکمت عدل قائم کرنے کا اُسوہ تھا جس نے ایمانوں میں بہتری پیدا کرنے کا کردار ادا کیا۔پھر دیکھیں عدل کی عظیم مثال قائم کرنے کا وہ واقعہ جس میں ایک بوڑھے کو اپنی ذات سے پہنچی ہوئی تکلیف کا بدلہ لینے کے لئے آنحضرت ﷺ نے اجازت دی۔روایت میں آتا ہے کہ جب سورۃ النصر کا نزول ہوا تو اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے ایک خطبہ دیا۔کیونکہ سورۃ نصر سے صحابہ سمجھ گئے تھے کہ آنحضرت اللہ کی وفات کا وقت قریب ہے۔اس موقع پر آنحضرت ﷺ نے جب خطبہ دیا، صحابہ بڑے روئے اور اس خطبہ کے بعد آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم سب کو میں اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ اگر کسی نے مجھ سے کوئی حق یا بدلہ لینا ہے تو قیامت سے پہلے یہیں اس دنیا میں لے لے۔اس پر ایک بوڑھے صحابی عکاشہ گکھڑے ہوئے اور کہا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ، آپ نے بار بار اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر یہ فرمایا ہے کہ جس نے بدلہ لینا ہے وہ لے لے۔تو میں ایک عرض کرنا چاہتا ہوں کہ فلاں غزوہ کے موقع پر میری اونٹنی آپ ا کی اونٹنی کے قریب ہو گئی تھی تو میں اترنے لگا تھا۔میں پاؤں چومنے کے لئے یا کسی اور وجہ سے قریب ہوا تھا۔بہر حال اس وقت آپ کی چھڑی مجھے لگی تھی ہوئی مجھے لگی تھی۔مجھے نہیں معلوم کہ ارادہ مجھے مارنے کے لئے یا اونٹ کو مارنے کے لئے تھی لیکن بہر حال مجھے سوئی لگی تھی۔اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے جلال کی قسم! اللہ کا رسول تجھے جان بوجھ کر نہیں مار سکتا۔پھر حضور ﷺ نے حضرت بلال کو کہا کہ وہی سوٹی لے کر آؤ۔وہ حضرت فاطمہ کے گھر سے سوئی لے کر آئے۔تو آپ نے عکاشہ کو سوٹی دی اور فرمایا کہ لو بدلہ لے لو۔اس پر حضرت ابوبکر کھڑے ہوئے۔حضرت عمرؓ کھڑے ہوئے۔حضرت علی کھڑے ہوئے کہ ہمارے سے بدلہ لے لو اور آنحضرت کو کچھ نہ کہو۔عکاشہ نے کہا کہ نہیں میں نے تو بدلہ آنحضرت ﷺ سے ہی لینا ہے۔پھر حضرت حسن اور حضرت حسین کھڑے ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ہم نبی ﷺ کے نواسے ہیں ہمارے سے بدلہ لے لو۔تو عکاشہ نے کہا کہ نہیں بدلہ تو میں نے آنحضرت ا سے لینا ہے۔خود آنحضرت یہ بھی سب کو بٹھاتے رہے کہ تم لوگ بیٹھ جاؤ میں خود ہی اپنا بدلہ دوں گا۔اس پر عکاشہ نے کہا کہ جب چھڑی مجھے لگی تھی تو اس وقت میرے بدن پر کوئی لباس