خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 397
خطبات مسرور جلد ششم 397 خطبہ جمعہ فرمودہ 26 ستمبر 2008 مان کر ہمیں نصیب ہوا ہے ، اس کا حق ادا کرنے کے لئے کوشش اور سعی کریں۔صرف سال کے رمضان میں ہی توجہ نہ کریں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ذکر عبادات اور مخلوق کے حق کی ادائیگی کیلئے ہمیشہ کوشاں رہیں۔رمضان میں جو نیکیوں کی توفیق ملی ہے، یہ نیکیاں اب ہماری زندگیوں کا لازمی حصہ بن جائیں۔جب جھگڑوں اور لغویات سے ہم جوان دنوں میں اپنی صائم کہہ کر بچتے رہے تو اب رمضان کے بعد بھی بچتے رہیں۔نمازوں میں جو با قاعدگی ہم نے حاصل کی اسے مستقل اپنی زندگی کا حصہ بنالیں۔جیسا کہ حدیث میں جو میں نے ابھی سنائی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ بہترین دن جمعہ کا دن ہے اور بہترین مہینہ رمضان کا مہینہ ہے اور بہترین رات لیلۃ القدر کی رات ہے۔آج اسی دن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں اپنی دعاؤں میں اس دعا کو ضرور شامل کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے آئندہ آنے والے جمعوں کی برکات سے بھی ہمیں فیض پانے کی توفیق عطا فرمائے۔پھر بہترین مہینے سے بھی ہم گزر رہے ہیں جس کے آخری چند دن رہ گئے ہیں۔ان دنوں میں بھی اپنی دعاؤں میں اس دعا کو ہمیشہ ہمیں یا درکھنا چاہئے کہ ان دنوں کی برکات ہمارے لئے اللہ تعالیٰ اتنا لمبا کر دے کہ اگلے رمضان تک ہم ان سے فیض پاتے چلے جائیں اور پھر آئندہ آنے والے رمضان میں اور ترقی کی منازل طے کریں۔اللہ تعالیٰ کے قرب اور اس کی رضا کو مزید حاصل کرنے والے ہوں اور پھر یہ نیکیوں کے حصول کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہمیشہ ہمارے ساتھ ، تاحیات ہمارے ساتھ چلتا چلا جائے بلکہ مرنے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ اپنے فضلوں سے اپنی رحمت اور مغفرت کی چادر میں ہمیں لیٹے رکھے۔پھر بہترین رات کا ذکر ہے جو لیلۃ القدر ہے۔اس کے بارہ میں روایات میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آخری عشرہ میں تلاش کرو اور بعض جگہ ہے کہ آخری سات دنوں میں تلاش کرو۔( بخاری کتاب فضل لیلۃ القدر باب تحری لیلۃ القدر فی الوتر من العشر الاواخر حدیث نمبر 2017) پس ہم اس لحاظ سے بھی آخری ہفتہ سے گزر رہے ہیں۔پھر روایات سے طاق راتوں میں تلاش کرنے کا بھی پتہ چلتا ہے۔تو اس لحاظ سے بھی دعاؤں کی طرف توجہ ہونی چاہئے کیونکہ یہ قبولیت دعا کی رات ہے۔مختصراً یہاں لیلۃ القدر کی وضاحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں کر دیتا ہوں۔قرآن کریم میں سورۃ القدر جس میں لیلۃ القدر کا ذکر ملتا ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کے ذکر میں فرماتے ہیں کہ ایک لیلتہ القدر تو وہ ہے جو پچھلے حصہ رات میں ہوتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ تجلی فرماتا ہے اور ہاتھ پھیلاتا ہے کہ کوئی دعا کرنے والا اور استغفار کرنے والا ہے جو میں اس کو قبول کروں۔لیکن ایک معنے اس کے اور ہیں اور وہ یہ ہیں کہ ہم نے قرآن کو ایسی رات میں اتارا ہے کہ تاریک و تار تھی اور وہ ایک مستعد مصلح کی خواہاں تھی۔چنانچہ پھر آپ نے اس کی وضاحت فرمائی کہ آنحضرت ﷺ کا آنا اور قرآن کا نازل ہونا اس زمانہ کی ضرورت تھی جو تا قیامت رہنے والا