خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 398
خطبات مسرور جلد ششم 398 خطبہ جمعہ فرمودہ 26 ستمبر 2008 زمانہ ہے اور اِنَّا اَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ (القدر :2) کی آیت اس کی دلیل ہے کہ حقیقی ضرورت تھی۔یہ ایک علیحدہ مضمون ہے۔اس وقت تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ کے پہلے حصے کے حوالے سے میں کہنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جب دعا اور استغفار قبول کرنے کے لئے ہاتھ پھیلا رہا ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تو ہمیں ہمیشہ ایسی راتوں کی تلاش میں رہنا چاہئے جب ہم اس سے فیض پانے والے ہوں اور حقیقت یہی ہے کہ جمعہ کا دن یا رمضان کا مہینہ یا لیلۃ القدر اُس وقت ہمارے لئے فائدہ مند ہوں گے جب ہم وہ انقلاب اپنی زندگیوں میں پیدا کریں گے جو ہمیں اپنے مقصد پیدائش کو پورا کرنے والا بنائے ، ہماری عبادتیں اور نمازیں دائمی ہو جائیں۔پھر اللہ تعالیٰ کی یاد اور ذکر صرف جمعہ کے وقت یا جمعہ کے دن ہی نہیں رہے گا بلکہ ہم ہمیشہ اپنی زبانوں کو اللہ تعالیٰ کی یاد سے تر رکھنے والے ہوں گے۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ جب جمعہ پڑھ لو، اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو جاؤ تو یا درکھو کہ پھر یہ نہ سمجھنا کہ اب اگلے جمعہ تک دنیاوی دھندوں میں پڑے رہوں نہیں ، بلکہ اپنے کاموں کے دوران بھی ، اپنی تجارتوں کے دوران بھی ، اپنی مصروفیات کے دوران بھی خدا تعالیٰ کی یاد تمہیں آتی رہنی چاہئے۔اس کا ذکر تمہاری زبانوں پر رہنا چاہئے۔دن کی پانچ وقت کی نمازیں تمہارے سامنے رہنی چاہئے۔فرمایا وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللهِ وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (الجمعة: 11) جب تم نماز جمعہ کی ادا ئیگی کے بعد اپنے کاموں میں مصروف ہو جاؤ تو اللہ کا فضل تلاش کرو۔یعنی یہ دنیاوی کام بھی جائز کام ہونے چاہئیں۔کسی ناجائز کام کو اللہ تعالیٰ کے فضل پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔ان نمازیوں اور حاجیوں کی طرح نہ بنو جو اپنی ظاہری عبادتوں کے بعد پھر اپنی تجارتوں میں دھو کہ کرتے ہیں۔پس اپنے ذہنوں کو پاک رکھنے کے لئے ذکر الہی ضروری ہے۔صرف ظاہری تسبیح پھیرنا ذکر الہی پر دلالت نہیں کرتا بلکہ دل دماغ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں ،فضلوں کی سمت کو سامنے رکھ اس طرح اللہ کو یاد کرے کہ تقویٰ پیدا ہو اور اللہ فرماتا ہے تمہاری اصل فلاح اور کامیابی اسی میں ہے۔اللہ تعالیٰ کا ذکر کس طرح کرنا چاہئے؟ اس بارہ میں بھی قرآن کریم میں کئی جگہ مختلف حوالوں سے بیان کیا گیا ہے مثلاً سورۃ آل عمران میں تخلیق کے بارے میں، کائنات کے بارے میں، زمین و آسمان کے بارے میں ذکر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ الَّذِيْنَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيْمًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ۔وَيَتَفَكَّرُوْنَ فِي خَلْقِ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ۔رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا۔سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّار (آل عمران : 192) وه لوگ جو اللہ کو یاد کرتے ہیں کھڑے ہوئے بھی اور بیٹھے ہوئے بھی اور اپنے پہلوؤں کے بل بھی اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور وفکر کرتے رہتے ہیں اور بے ساختہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے کسی چیز کو بھی بے مقصد پیدا نہیں کیا۔پاک ہے تو۔پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔پس ذکر الہی اس طرح ہونا چاہئے کہ ہر وقت خدا یا در ہے۔اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی پیدائش کی طرف