خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 396 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 396

396 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 26 ستمبر 2008 دیتے۔ہم احمدیوں کے دلوں میں اس دن کی خاص اہمیت ہونی چاہئے۔کیونکہ اس زمانے میں آخرین کو پہلوں سے ملانے میں اس دن کی بھی بہت اہمیت ہے جبکہ دنیا داری انتہا تک پہنچی ہوئی ہے اور شیطان ہمیں ہر اس نیک کام سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے جو خدا تعالیٰ کا قرب دلانے والا ہو، اس کی رضا کے حصول کا حامل بنانے والا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جہاں اپنی بعثت کا اس دن اور اس زمانے سے تعلق جوڑتے ہوئے وضاحت فرماتے ہیں، ذکر فرماتے ہیں اور اپنے نہ مانے والوں کو تنبیہ فرمائی ہے وہاں اپنے ماننے والوں کو بھی بڑے درد سے نصیحت فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : ”میں سچ کہتا ہوں کہ یہ ایک تقریب ہے جو اللہ تعالیٰ نے سعادت مندوں کے لئے پیدا کر دی ہے۔مبارک وہی ہیں جو اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔تم لوگ جنہوں نے میرے ساتھ تعلق پیدا کیا ہے اس بات پر ہرگز ہرگز مغرور نہ ہو جاؤ کہ جو کچھ تم نے پانا تھا پاچکے۔یہ سچ ہے کہ تم منکروں کی نسبت قریب تر با سعادت ہو۔جنہوں نے اپنے شدیدا انکار اور تو ہین سے خدا کو ناراض کیا اور یہ بھی سچ ہے کہ تم نے حسن ظن سے کام لے کر خدا تعالیٰ کے غضب سے اپنے آپ کو بچانے کی فکر کی۔لیکن سچی بات یہی ہے کہ تم اس چشمے کے قریب آ پہنچے ہو جو اس وقت خدا تعالیٰ نے ابدی زندگی کے لئے پیدا کیا ہے۔ہاں پانی پینا ابھی باقی ہے۔یہ فقرہ بڑے غور کے قابل ہے اور ہم سب کو بڑا فکر دلانے والا ہے۔فرمایا " پس خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے توفیق چاہو کہ وہ تمہیں سیراب کرے کیونکہ خدا تعالیٰ کے بڑوں کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔یہ میں یقینا جانتا ہوں کہ جو اس چشمے سے پیئے گا وہ ہلاک نہ ہوگا کیونکہ یہ پانی زندگی بخشتا ہے اور ہلاکت سے بچاتا ہے اور شیطان کے حملوں سے محفوظ کرتا ہے۔اس چشمے سے سیراب ہونے کا کیا طریق ہے؟ یہی کہ خدا تعالیٰ نے جو دو حق تم پر قائم کئے ہیں ان کو بحال کرو اور پورے طور پر ادا کرو۔ان میں سے ایک خدا کا حق ہے اور دوسرا مخلوق کا“۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 135 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) بڑے واضح طور پر آپ نے فرما دیا کہ یہ ٹھیک ہے تم نے حسن ظن کر کے مجھے مان لیا۔زمانہ کے امام کو مان لیا۔اس اہمیت کو تسلیم کر لیا کہ آخری زمانے میں امام نے آنا تھا جنہوں نے پچھلوں کو پہلوں سے ملانا تھا۔اس زمانہ عبادتوں کی بھی بڑی اہمیت تھی۔لیکن فرمایا کہ صرف یہ سمجھ لینا کافی نہیں ہے۔ابھی بھی کئی ایسے ہیں جنہوں نے اپنے اندر پوری تبدیلیاں پیدا نہیں کیں۔بہت ساروں کے لئے خدا تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے حقوق کی ادائیگی میں بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس زمانہ میں اپنے ساتھیوں کے بارے میں ، ان لوگوں کے بارے میں فرما رہے ہیں جو براہ راست آپ کی صحبت سے فیض پانے والے تھے تو ہمیں کس قدر اپنے جائزے لیتے ہوئے اس طرف توجہ دینی چاہئے کہ یہ جمعہ جو ایک عظیم جمعہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو