خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 24 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 24

خطبات مسرور جلد ششم 24 خطبہ جمعہ فرموده 11 جنوری 2008 کمال درجہ پر پہنچے ہوئے ہوں جس پر کوئی زیادہ متصور نہ ہو۔جیسا کہ ایک چیز جب زمین سے شروع ہو کر آسمان تک پہنچ جائے تو اس پر کوئی زیادت متصور نہیں“۔پھر فرمایا کہ: ” پھر تیسری نشانی کمال کی یہ فرمائی کہ تُوتِی اُكُلَهَا كُلَّ حِینٍ۔ہر ایک وقت اور ہمیشہ کے لئے وہ اپنا پھل دیتا رہے۔ایسا نہ ہو کہ کسی وقت خشک درخت کی طرح ہو جاوے جو پھل پھول سے بالکل خالی ہے۔اب صاحبو! دیکھ لو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمودہ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ کی تشریح آپ ہی فرما دی کہ اس میں تین نشانیوں کا ہونا از بس ضروری ہے۔سوجیسا کہ اس نے یہ تین نشانیاں بیان فرمائی ہیں اسی طرح اس نے ان کو ثابت کر کے بھی دکھلا دیا ہے۔اور اصول ایمانیہ جو پہلی نشانی ہے جس سے مراد کلمہ لا الهَ إِلَّا الله ہے اس کو اس قدربسط سے یعنی کھول کر قرآن شریف میں ذکر فرمایا گیا ہے کہ اگر میں تمام دلائل لکھوں تو پھر چند جزو میں بھی ختم نہ ہوں گے مگر تھوڑ اسا ان میں سے بطور نمونہ کے ذیل میں لکھتا ہوں۔جیسا کہ ایک جگہ یعنی سیپارہ دوسرے سورۃ البقرہ میں فرماتا ہے إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِى تَجْرِى فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِن مَّاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ۔(البقرة 165) یعنی تحقیق آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے اختلاف اور ان کشتیوں کے چلنے میں جو دریا میں لوگوں کے نفع کے لئے چلتی ہیں اور جو کچھ خدا نے آسمان سے پانی اتارا اور اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کیا اور زمین میں ہر ایک قسم کے جانور بکھیر دیے اور ہواؤں کو پھیرا اور بادلوں کو آسمان اور زمین میں مسخر کیا یہ سب خدا تعالیٰ کے وجود اور اس کی تو حید اور اُس کے الہام اور اُس کے مدبر بالا رادہ ہونے پر نشانات ہیں۔اب دیکھئے اس آیت میں اللہ جلشانہ نے اپنے اس اصول ایمانی پر کیسا استدلال اپنے اس قانون قدرت سے کیا یعنی اپنے ان مصنوعات سے جوزمین و آسمان میں پائی جاتی ہیں جن کے دیکھنے سے مطابق منشاء اس آیت کریمہ کے صاف صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ بیشک اس عالم کا ایک صانع قدیم اور کامل اور وحدہ لاشریک اور مد تر بالا رادہ اور اپنے رسولوں کو دنیا میں بھیجنے والا ہے۔وجہ یہ کہ خدا تعالی کی یہ تمام مصنوعات اور یہ سلسلہ نظام عالم کا جو ہماری نظر کے سامنے موجود ہے یہ صاف طور پر بتلا رہا ہے کہ یہ عالم خود بخود نہیں بلکہ اس کا ایک موجد اور صانع ہے جس کے لئے یہ ضروری صفات ہیں کہ وہ رحمان بھی ہو اور رحیم بھی ہو اور قادر مطلق بھی ہواور واحد لاشریک بھی ہو اور ازلی ابدی بھی ہو اور مد بر بالا رادہ بھی ہو اور ستجمع جمیع صفات کاملہ بھی ہو اور وحی کو نازل کرنے والا بھی ہو۔“ فرماتے ہیں : ” دوسری نشانی یعنی فَرُعُهَا فِي السَّمَاءِ جس کے معنی یہ ہیں کہ آسمان تک اس کی شاخیں پہنچی