خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 23
خطبات مسرور جلد ششم 23 23 خطبه جمعه فرموده 11 جنوری 2008 کمال کس کو کہتے ہیں۔فرماتا ہے اَلَمْ تَرَكَيْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ تُؤْتِي أَكُلَهَا كُلَّ حِيْنِ بِاِذْنِ رَبِّهَا۔وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ۔وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ اجْتَنَّتْ مِنْ فَوْقِ الْارْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ۔وَيُضِلُّ اللهُ الظَّلِمِينَ (ابراهیم : 25 تا 28 )۔کیا تو نے نہیں دیکھا کیونکر بیان کی اللہ نے مثال یعنی مثال دین کامل کی کہ بات پاکیزہ ، درخت پاکیزہ کی مانند ہے کہ پاکیزہ بات جو ہے وہ پاکیزہ درخت کی طرح ہے۔جس کی جڑ ثابت ہو۔بہت مضبوط ہو اور شاخیں اس کی آسمان میں ہوں اور وہ ہر ایک وقت اپنا پھل اپنے پروردگار کے حکم سے دیتا ہو اور یہ مثالیں اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے تا لوگ ان کو یاد کر لیں اور نصیحت پکڑلیں اور نا پاک کلمہ کی مثال اس ناپاک درخت کی ہے جو زمین پر سے اکھڑا ہوا ہے اور اس کو قرار وثبات نہیں۔سو اللہ تعالیٰ مومنوں کو قول ثابت کے ساتھ یعنی جو قول ثابت شدہ اور مدلل ہے اس دنیا کی زندگی اور آخرت میں ثابت قدم کرتا ہے اور جو لوگ ظلم اختیار کرنا کرتے ہیں ان کو گمراہ کرتا ہے۔یعنی ظالم خدا تعالیٰ سے ہدایت کی مدد نہیں پاتا جب تک ہدایت کا طالب نہ ہوں“۔ظالم جو ہے اس کو ہدایت نہیں ملتی جب تک وہ خود کوشش نہ کرے۔کسی آیت کے وہ معنے کرنے چاہئے کہ الہامی کتاب آپ کرئے“۔یعنی آیات کے وہ معنے کرنے چاہئیں جو دوسری آیات سے مطابقت رکھتے ہوں۔اور الہامی کتب کی شرح دوسری کتابوں کی شرحوں پر مقدم ہے۔اب اللہ تعالیٰ ان آیات میں کلام پاک اور مقدس کا کمال تین باتوں پر موقوف قرار دیتا ہے۔اوّل یہ کہ أَصْلُهَا ثَابِت یعنی اصول ایمانیہ اس کے ثابت اور محقق ہوں۔یہ ثابت ہو جائے کہ وہ واقعی ایماندار ہے۔ایمان لایا ہوا ہے۔اور فی حد ذاتہ یقین کامل کے درجے پر پہنچے ہوئے ہوں“۔یقین کامل ہو اس کو اپنے ایمان پر پہنچے ہوئے ہوں ” اور فطرت انسانی اس کو قبول کرے کیونکہ ارض کے لفظ سے اس جگہ فطرت انسانی مراد ہے جیسا کہ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ کا لفظ صاف بیان کر رہا ہے۔خلاصہ یہ کہ اصول ایمانیہ ایسے چاہئیں کہ ثابت شدہ اور انسانی فطرت کے موافق ہوں۔ایمان کی مضبوطی اور جڑ جو ہے اتنی ہو اور ایسا پکا ایمان ہو جو فطرت ایمانیہ کے موافق بھی ہو۔یہ خلاصہ بیان فرمایا انہوں نے اصل ثابت کا۔پھر دوسری نشانی یہ کہ فطرت انسانی اور ایمان ایک چیز بن جائیں۔پھر دوسری نشانی کمال کی یہ فرماتا ہے کہ فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ یعنی اس کی شاخیں آسمان پر ہوں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھیں یعنی صحیفہ قدرت کو غور کی نگاہ سے مطالعہ کریں۔قرآن کریم کو غور سے مطالعہ کریں تو اس کی صداقت ان پر کھل جائے۔اور دوسری یہ کہ وہ تعلیم یعنی فروعات اُس تعلیم کے جیسے اعمال کا بیان ،احکام کا بیان ، اخلاق کا بیان یہ