خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 25 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 25

25 25 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 جنوری 2008 خطبات مسرور جلد ششم ہوئی ہیں اور آسمان پر نظر ڈالنے والے یعنی قانون قدرت کا مشاہدہ کرنے والے اس کو دیکھ سکیں اور نیز وہ انتہائی درجہ کی تعلیم ثابت ہو۔اس کے ثبوت کا ایک حصہ تو اسی آیت موصوفہ بالا سے پیدا ہوتا ہے۔کس لئے کہ جیسا کہ اللہ جلشانہ نے مثلاً قرآن کریم میں یہ علیم بیان فرمائی ہے کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔مَلِكِ يَوْمِ الــديـــن - (الفاتحہ: 42) جس کے یہ معنے ہیں کہ اللہ جلشانہ تمام عالموں کا رب ہے یعنی علت العلل ہر ایک ربوبیت کا وہی ہے۔تمام اسباب کا پیدا کرنے والا۔اس کی پہلے پیدا کرنے کی جو وجہ ہے،اس کی ربوبیت ہے جو ہر ایک چیز پر حاوی ہے۔دوسری یہ کہ وہ رحمن بھی ہے یعنی بغیر ضرورت کسی عمل کے اپنی طرف سے طرح طرح کے آلاء اور نعماء شامل حال اپنی مخلوق کے رکھتا ہے۔اور رحیم بھی ہے کہ اعمال صالحہ کے بجالانے والوں کا مددگار ہوتا ہے اور اُن کے مقاصد کو کمال تک پہنچاتا ہے۔اور ملِكِ يَوْمِ الدِّین یہی ہے کہ ہر ایک جزا سزا اس کے ہاتھ میں ہے۔جس طرح پر چاہے اپنے بندہ سے معاملہ کرے۔چاہے تو اس کو ایک عمل بد کے عوض میں وہ سزا دیوے جو اس عمل بد کے مناسب حال ہے اور چاہے تو اس کے لئے مغفرت کے سامان میسر کرے۔یہ تمام امور اللہ جلشانہ کے اس نظام کو دیکھ کر صاف ثابت ہوتے ہیں پھر تیسری نشانی جو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمائی توتى أكُلَهَا كُلَّ حِيْنِ یعنی کامل کتاب کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ جس پھل کا وہ وعدہ کرتی ہے وہ صرف وعدہ ہی وعدہ نہ ہو بلکہ وہ پھل ہمیشہ اور ہر وقت میں دیتی رہے۔اور پھل سے مراد اللہ جل شانہ نے اپنا لقامعہ اس کے تمام لوازم کے جو برکات سماوی اور مکالمات الہیہ اور ہر ایک قسم کی قبولیتیں اور خوارق ہیں رکھی ہیں۔یعنی کہ اللہ تعالیٰ سے ملنے کی جو باتیں ہے ، پھل سے وہ مراد ہیں۔یعنی قبولیت دعا جو ہے یعنی جو برکتیں اللہ تعالیٰ آسمان سے اتارتا ہے ان نیک لوگوں سے باتیں کرتا ہے یہ ساری چیزیں جو ہیں رکھی ہیں۔جیسا کہ خود فرماتا ہے إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ۔نَحْنُ اَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ۔وَلَكُمُ فِيهَا مَا تَشْتَهِيَ أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ۔نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَّحِيم (حم سجدہ:31 تا 33)۔وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے۔پھر انہوں نے استقامت اختیار کی یعنی اپنی بات سے نہ پھرے اور طرح طرح کے زلازل اُن پر آئے مگر انہوں نے ثابت قدمی کو ہاتھ سے نہ دیا اُن پر فرشتے اترتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ تم کچھ خوف نہ کرو اور نہ کچھ خون اور اس بہشت سے خوش ہو جس کا تم وعدہ دیئے گئے تھے۔یعنی اب وہ بہشت تمہیں مل گیا اور بہشتی زندگی اب شروع ہوگئی۔کس طرح شروع ہوگئی۔نَحْنُ أَولِيؤُكُم۔۔۔۔الخ اس طرح کہ ہم تمہارے متولی اور متکفل ہو گئے اس دنیا میں اور آخرت میں اور تمہارے لئے اس بہشتی زندگی میں جو کچھ تم مانگو وہی موجود ہے۔یہ غفور رحیم کی طرف سے مہمانی ہے۔مہمانی کے لفظ سے اس پھل کی طرف اشارہ کیا ہے جو آیت تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ