خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 379 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 379

379 خطبه جمعه فرمود ه 12 ستمبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم پھر بڑے بڑے زمیندار طبقے سے لوگ آئے۔نام تو اس وقت نہیں لے سکتا۔ان کا اظہار یہی تھا کہ یہ آپ کی جماعت کا نقصان نہیں بلکہ یہ ہم سب کا نقصان ہے۔پھر بعض سماجی شخصیات نے اظہار کیا کہ وہ غریبوں کے ہمدرد، بے سہاروں کے سہارا تھے آپ کی مسکراہٹ لوگوں کے دل جیت لیتی تھی۔آپ کا اخلاق نا قابل بیان ہے۔پھر اس علاقے کے وکلاء نے بیان دیا کہ میر پور خاص ایک بہترین ڈاکٹر اور محسن سے محروم ہو گیا ہے۔یہ بہت بڑا ظلم ہوا ہے۔نومبائعین نے اظہار کیا کہ غریبوں کے ہمدرد تھے۔ہم سب کو یتیم کر کے چلے گئے۔ان کے ہسپتال کے اپنے عملہ کا اظہار یہ ہے کہ غریب پرور تھے۔غریبوں کے ساتھ بہت ہمددری کے ساتھ پیش آتے تھے۔ہمارا بچوں کی طرح خیال رکھتے تھے۔پھر سرکاری افسران ڈی ایس پی، ڈی پی او، ڈی آئی جی وغیرہ جو آئے ان کا اظہار یہ تھا کہ شہید کے ساتھ ہمارا ذاتی تعلق تھا وہ عظیم انسان تھے۔ایک معروف سیاسی شخصیت نے کہا کہ یہ ڈاکٹر منان صدیقی کا قتل نہیں بلکہ پورے میر پورخاص کا قتل ہے۔پھر دوسرے ہمارے شہید سیٹھ محمد یوسف صاحب ہیں۔یہ بھی ضلع نواب شاہ کے امیر جماعت تھے۔گو زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے لیکن بڑے اخلاص و وفا سے جماعت کی خدمت کا جذبہ رکھنے والے تھے۔1956 ء میں نواب شاہ میں آکر آباد ہوئے۔1962ء میں نواب شاہ کے صدر جماعت ہے۔پھر آپ کی صدارت کے دوران وہاں ایک بڑا ہال محمود ہال بنایا گیا، حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اس کا نام محمود ہال رکھا تھا۔دوسال قائد ضلع بھی رہے اور پھر مسلسل 14 سال قائد علاقہ سکھر ڈویژن رہے۔1993ء میں آپ ضلع نواب شاہ کے امیر مقرر ہوئے اور وفات تک اسی عہدے پر تھے۔بہت ملنسار، مہمان نواز، خدمت خلق کرنے والے، غرباء کا خاص خیال رکھنے والے، اپنے پرائے کا درد رکھنے والے اور وہاں بڑے ہر دلعزیز تھے اور ہمیشہ ہر شخص کو پہلے سلام کرتے اور بڑی عزت واحترام سے پیش آتے۔کوشش یہ کرتے تھے کہ کسی کی بشکنی نہ ہو۔واقفین زندگی کا خاص احترام کرنا اور ان کی تمام ضروریات کا خیال رکھنا ان کی خاص بات تھی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے سیٹھ صاحب موصی تھے۔گزشتہ دنوں اپنی امارت میں انہوں نے ایک اور بڑی مسجد اور ہال ایوان طاہر کے نام سے نواب شاہ میں تعمیر کرایا۔دل کے مریض ہونے کے باوجود بڑی محنت کیا کرتے تھے۔بلکہ کسی نے مجھے لکھا کہ ان کا گھر دوسری منزل پر تھا، نیچے دکا نہیں وغیرہ تھیں۔ڈاکٹر نے ان کو منع کر دیا کہ سیڑھیاں چڑھنی اور اترنی نہیں۔اب یہ گھر تو بیٹھ نہیں سکتے تھے۔جماعت کا کام کس طرح کرتے ؟ قریب ہی ان کے گھر سے تھوڑے فاصلے پر مسجد تھی اور وہاں ہی امیر کا دفتر تھا۔پاکستان میں لفٹ کا انتظام