خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 380 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 380

380 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرمودہ 12 ستمبر 2008 بھی نہیں ہوتا ، نہ یہاں کی طرح معذوروں کے لئے جس طرح کرسی کا انتظام ہو جاتا ہے، آٹو میٹک کرسی یا الیکٹرانک کرسی تھی جو سیٹرھیوں کے ساتھ لگ جاتی ہے۔تو انہوں نے اس کا طریقہ یہ نکالا کہ ایک کرسی نما چھوٹی پیڑھی لے کر اس کے ساتھ رسیاں باندھ دیں اور اپنے گھر والوں، نوکروں کو کہہ کر روزانہ نیچے اتر جاتے تھے اور شام کو اس پر بیٹھتے تھے اور اس سے اوپر کھینچ لئے جاتے تھے۔اس طرح سارا دن جماعت کا کام کرتے رہتے تھے۔بڑے انتھک اور جماعت کی خدمت کرنے والے تھے۔تو یہ ہیں جماعت کے خدمت کرنے والے کارکنان۔ہر شہید جب جاتا ہے تو یہ پیغام دے کر جاتا ہے کہ میں مرا نہیں بلکہ زندہ ہوں۔اب تم بھی یاد رکھو کہ جماعت اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ اور خدا تعالیٰ کے ساتھ وفا کا یہی تعلق تمہیں بھی زندگی دے گا۔ان کی اہلیہ کی عمر 60 سال ہے اور سیٹھ صاحب کی عمر تقریباً 70 سال تھی اور ان کے بچے ہیں، ایک ڈاکٹر ہیں ، ایک کاروبار کرتے ہیں، ایک وکیل ہیں اور ایک بیٹے کی وفات ہو چکی ہے، ان کی بیٹی راولپنڈی میں ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرماتا چلا جائے ،مغفرت کا سلوک فرمائے۔اس کے علاوہ ان دو زخمیوں کے لئے بھی دعا کا اعلان کرنا چاہتا ہوں ایک تو شیخ سعید احمد صاحب ہیں جو پہلی رمضان کو یا ایک دن پہلے چاند رات کو کراچی میں ان کو اپنی دکان پر بیٹھے ہوئے گولیاں مار کر شدید زخمی کر دیا تھا اور دوسرے ڈاکٹر منان صدیقی صاحب کے ساتھ جو دوسرے احمدی گارڈ عارف صاحب زخمی ہوئے تھے۔یہ بھی شدید زخمی ہیں اور یہ دونوں مریض کافی کریٹیکل (Critical) حالت میں ہیں۔اللہ تعالیٰ فضل فرمائے اور ان کو صحت دے۔رمضان میں ان نام نہاد مسلمانوں کا گروہ ثواب کمانے میں اور زیادہ تیز ہو جاتا ہے اور نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کا کیا انجام بتا رہا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اور قوم کو بھی ان انسانیت دشمن لوگوں سے محفوظ رکھے۔ان دنوں میں بہت دعائیں کریں اللہ تعالیٰ سب کو اپنی حفاظت میں رکھے۔(الفضل انٹرنیشنل جلد 15 شماره 40 مورخہ 3اکتوبر تا 19اکتوبر 2008ء صفحہ 5 تا8)