خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 378
378 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرمودہ 12 ستمبر 2008 انسان تھے۔باوجود اس کے کہ انہیں بڑے عرصہ سے دھمکیاں مل رہی تھیں، بغیر کسی خوف کے اپنے کام میں مگن رہے۔اگر کسی نے توجہ دلائی بھی ، ان کو چند دن پہلے ہی کسی عزیز نے توجہ دلائی تھی کہ خیال کیا کریں تو ہنس کر ٹال دیا کہ دیکھا جائے گا جو ہونا ہو وہ ہو جائے گا۔جماعت کے ایک بہترین کارکن تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند سے بلند تر کرتا چلا جائے ،شہید ہوکر وہ درجہ تو پاگئے ہیں اب ان کے درجات اللہ تعالیٰ بڑھاتا چلا جائے۔ان کی اہلیہ کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے ، انہوں نے بھی بڑے حوصلے سے اپنے خاوند کی شہادت کی خبر کو سنا اور بہترین صبر کا نمونہ دکھایا۔اپنی ساس جو اُن کی پھوپھی بھی ہیں انہیں بھی سنبھالا اور اپنے بچوں کو بھی سنبھالا۔امریکہ میں پلنے بڑھنے کے باوجودا اپنے خاوند کے ساتھ کامل وفا سے ساتھ دیا اور جماعتی کاموں میں کبھی روک نہیں بنتی رہیں، بلکہ خدمت کرتی رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی لمبی زندگی کے ساتھ بچوں کی خوشیاں دکھائے۔ڈاکٹر صاحب کی وفات پر مختلف غیر از جماعت لوگوں نے بھی اظہار خیال کیا۔ان کے چند نمونے پیش کرتا ہوں۔پہلے تو ایم کیوایم کے لیڈ ر الطاف حسین صاحب کا ایک بیان جو یہیں لندن میں ہی رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ طب کے مقدس پیشے سے وابستہ ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی صاحب کا قتل میر پورخاص کے شہریوں کا بہت بڑا نقصان ہے۔انہوں نے کہا کہ سفاک قاتلوں نے ہزاروں مریضوں کو بلا امتیاز رنگ ونسل، زبان، مذہب اور عقیدہ علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے والے ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی صاحب کو قتل کر کے ثابت کر دیا کہ یہ عناصر مسلمان تو کجا انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں ہیں۔انہوں نے ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی صاحب کے وحشیانہ قتل کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قتل کی واردات سندھ میں مذہبی انتہا پسندی اور طالبانائیزیشن کی سازشوں کا تسلسل ہے۔جو عناصر مذہب، عقیدہ اور فقہ سے اختلاف کی بنا پر بے گناہ شہریوں کو قتل کر رہے ہیں وہ انسانیت کے کھلے دشمن ہیں۔پھر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن میر پور خاص کے صدر نے بیان دیا کہ ڈاکٹر منان کا قتل انسانیت کا قتل ہے لیکن یہ جو آج کل نام نہاد علماء ہیں جو اپنے آپ کو قرآن کریم کا عالم سمجھتے ہیں۔ان لوگوں کو سمجھ نہیں آئے گی کہ خدا تعالیٰ نے تو قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ ایسے شخص کا قتل جس نے نہ تو قتل کیا ہواور نہ ملک میں فساد پھیلا یا ہو، اس کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔اور ڈاکٹر صاحب کا وجود ایسا ہی وجو د تھا۔جو ہر لمحہ انسانیت کی خدمت کرنے کے لئے تیار ہوتا تھا اور غیر بھی اس کا اظہار کر رہے ہیں۔پھر اور بہت سارے ڈاکٹر صاحبان کی ایک ٹیم اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ز نے اظہار کیا کہ ڈاکٹر صاحب ہمارے بہت قریبی ، پیارے اور ہمدرد تھے۔وہ ایک عظیم انسان تھے۔یہ قومی نقصان ہے۔ایسے فرشتہ نما انسان صدیوں میں بھی پیدا نہیں ہوتے۔