خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 377 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 377

377 خطبه جمعه فرمودہ 12 ستمبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم کے دو بچے ہیں، بڑی بیٹی 18 سال کی ہے اس نے ایف ایس سی کی ہے اور ایک بیٹا 13 سال کا ہے۔ان کی اہلیہ بھی میر پور خاص کی صدر ہیں۔وقف جدید کا جو ہسپتال نگر پار کر کے علاقہ مٹھی میں ہے اس میں بھی آپ کی بڑی نمایاں خدمات ہیں اور فری میڈیکل کیمپس لگاتے رہے ہیں۔انسانیت کی خدمت کے لئے قائم کی گئی النور سوسائٹی کے بھی آپ صدر تھے۔صدر انجمن کی منصوبہ بندی کمیٹی کے ممبر اور مجلس تحریک جدید کے رکن کا بھی اعزاز حاصل تھا۔جیسا کہ میں نے کہا میرا ان سے ایک پرانا تعلق تھا اور ان کے والد کا بھی ہمارے والد سے تعلق تھا اور ان کے نانا حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب جو حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے معالج تھے ان سے بھی ہمارا تعلق تھا۔حضرت ڈاکٹر صاحب حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی قصر خلافت میں رہتے تھے۔ان کے پاس آنا جانا تھا۔تو اس سارے خاندان سے ایک خاندانی تعلق تھا۔ڈاکٹر منان صاحب ان انسانوں میں سے تھے جن کے چہرے پر کبھی گھبراہٹ کے آثار نہیں آتے تھے ، جیسے مرضی حالات ہو جائیں۔ضلع میر پور خاص گزشتہ کئی سال سے مولویوں کا ٹارگٹ رہا ہے بلکہ پورا سندھ ہی رہا ہے لیکن زیادہ تر اس علاقے میں۔تو بڑے عمدہ طریق پر انہوں نے جماعت کو، اپنے ضلع کی جماعت کوسنبھالا۔بلکہ ساتھ کے ضلعوں کی بھی اپنے تعلقات کو استعمال میں لا کر مدد کرتے تھے۔لیکن کبھی انہوں نے اپنے تعلقات کو اپنی ذات کے لئے استعمال نہیں کیا۔استعمال کرتے تو جماعت کے مفاد کے لئے ہی استعمال کرتے تھے۔پھر دن ہو یا رات جب کسی نے مدد کے لئے پکارا مسکراتے ہوئے اس کی مدد کی۔ہمیشہ مجھے ان کی یہ بات بہت اچھی لگتی تھی کہ ان کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی تھی۔یہ صرف میں نے ہی نہیں کہا بلکہ ہر غریب اور امیر نے اس کا اظہار کیا ہے۔عاجزی انتہا کی حد تک تھی۔کوئی زعم نہیں تھا کہ میں امریکہ سے پڑھا ہوا ہوں، ہسپتال کا مالک ہوں، ضلع کا امیر ہوں، مرکزی کمیٹیوں کا ممبر ہوں، تو کسی بھی قسم کا فخر نہیں تھا۔عموماً امراء دعوت الی اللہ اور میڈیکل کیمپس میں خود نہیں جاتے لیکن ڈاکٹر صاحب مرحوم جیسا کہ میں نے بتایا کہ ہر موقع پر اگر کوئی اور جماعتی مصروفیت نہیں ہوتی تھی تو خود جایا کرتے تھے۔کسی نے میرے پاس ان کے بارے میں بڑا اچھا تبصرہ کیا ہے جو سندھ سے آئے ہوئے ایک احمدی تھے کہ وہ سندھ میں داعین الی اللہ کے امیر تھے۔غریبوں کی مدد اس حد تک کرتے تھے کہ نہ صرف ان کا مفت علاج کرتے تھے بلکہ اپنے پاس سے بھی کچھ دے دیا کرتے تھے۔ان کی وفات پر جہاں امراء، وڈیرے اور زمیندار افسوس کے لئے آئے وہاں غریب عورتیں ، مرد بھی عجیب جذباتی کیفیت میں ڈاکٹر صاحب کا ذکر کرتے رہے۔خلافت سے وفا اور اخلاص کا تعلق بے انتہا تھا۔میں سمجھتا ہوں کہ وہ سرتا پا خلافت کے جاں نثار اور فدائی تھے اور میرے بہترین ساتھیوں میں سے تھے۔ان پر مجھے اتنا اعتماد تھا کہ میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ان کو کوئی کام کہوں ، کوئی رپورٹ کے لئے بھیجوں اور اس میں کسی بھی طرح کی بے انصافی ہوگی یا تقویٰ کے بغیر کوئی بات کر جائیں گے۔انتہائی متقی