خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 376 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 376

376 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرمودہ 12 ستمبر 2008 ڈاکٹر منان صدیقی صاحب کے نانا ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی تھے۔ڈاکٹر منان صدیقی صاحب کی والدہ بھی حیات ہیں۔ان کا نام سلیمہ بیگم ہے۔نیک، تہجد گزار، دعائیں کرنے والی ، بڑی شفیق، مہربان ، غریبوں کا خیال رکھنے والی خاتون ہیں۔37 سال انہوں نے بھی صدر لجنہ میر پور خاص کے طور پر خدمات انجام دیں اور لجنہ کی تربیت میں ان کا بھی کردار ہے۔بڑھاپے اور بیماری کے باوجود بڑے حوصلے سے انہوں نے اپنے بیٹے کی شہادت کی خبر سنی اور اسے رخصت کیا۔یہ اس بوڑھی والدہ کے لئے بہت بڑا صدمہ ہے۔ان کے لئے بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں بعد میں بھی برداشت حوصلہ اور صبر دے۔ڈاکٹر منان صدیقی صاحب کو مختلف شعبہ جات میں جماعت کی خدمت کی توفیق ملی۔95 ء سے وفات تک 13 سال آپ نے بطور امیر میر پور خاص کے فرائض سرانجام دیئے۔اس کے علاوہ اس سے پہلے بھی سیکرٹری امور عامہ جماعت میر پور خاص رہے۔قائد علاقہ خدام الاحمد یہ رہے۔نگران صوبہ سندھ مجلس خدام الاحمد یہ تھے اور 1998ء میں ان کے والد کی وفات ہوئی تو انہوں نے ہسپتال بھی سنبھالا۔چھوٹا کلینک تھا اس کو مکمل ہسپتال بنادیا جس میں ہر قسم کی سہولتیں موجود ہیں۔ڈاکٹر صاحب تھر پار کر کے علاقے نگر پارکر میں جو بہت دور دراز ہندوؤں کا اور غریبوں کا علاقہ ہے ہر ماہ ذاتی طور پر میڈیکل کیمپ لگاتے اور مریضوں اور ناداروں اور ضرورت مندوں کو طبعی امداد پہنچانے کے لئے خود تشریف لے جاتے تھے۔ہزاروں مریض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے ہاتھ سے شفایاب ہوئے۔ان کی شہادت پر غریب امیر سب رور ہے تھے۔بہت دور دور سے ان کو دیکھنے کے لئے لوگ آئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے مسیح موعودؓ کے اس غلام کو دست مسیحائی اور شفا عطا فرمائی ہوئی تھی جس سے وہ غریبوں کی خدمت کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے شفا کا ذریعہ بنایا تھا۔میر پور خاص کے علاوہ بھی پورے صوبہ سندھ میں ان کی شہرت اور نیک نامی تھی۔جوانی میں ہی انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا نیک نام حاصل کر لیا تھا۔احمدیوں اور غیر احمد یوں میں یکساں مقبول تھے۔بڑے ہر دلعزیز تھے۔دعوت الی اللہ اور تبلیغ کا بڑا شوق تھا اور مختلف وفود کو مرکز میں بھی لے کر آتے تھے اور اپنی نگرانی میں بھجواتے بھی رہتے تھے۔گزشتہ پانچ سال میں میں نے دیکھا کہ ہر دفعہ جب بھی کوئی دعوت الی اللہ کا پروگرام ہوتا، جانے سے پہلے دعا کے لئے لکھتے تھے کہ کامیابی ہواور اللہ تعالیٰ کامیابی عطا فرما تا تھا۔ان کی دشمنی کی ایک بڑی وجہ یہ دعوت الی اللہ بھی تھی کیونکہ سندھ کے وڈیروں، زمینداروں کو غریبوں کو بے دھڑک تبلیغ کرتے تھے۔الغرض ہر جگہ تبلیغ کا ماحول پیدا کر دیا کرتے تھے۔تو دشمن نے تو اپنی طرف سے ان کو شہید کر کے تبلیغ کے ایک وسیلے کو ختم کرنا چاہا ہے۔لیکن نادان یہ نہیں جانتے کہ ڈاکٹر عبدالمنان اللہ کی راہ میں قربان ہو کر اپنے جیسے کئی اور منان پیدا کر جائے گا انشاء اللہ۔ڈاکٹر صاحب کی شادی اپنی ماموں زا دامتہ الشافی صاحبہ سے ہوئی جو امریکن نیشنل ہیں۔ان