خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 368 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 368

خطبات مسرور جلد ششم 368 (37) خطبہ جمعہ فرمودہ 12 ستمبر 2008 فرمودہ مورخہ 12 ستمبر 2008ء بمطابق 12 رتبوک 1387 ہجری شمسی به مقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد یہ آیات تلاوت فرمائیں:۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّبِرِينَ۔وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ۔وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْامْوَالِ وَالَّا نُفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِيْنَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوْا إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأَوْلَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ۔(البقرة:154تا158) ان آیات کا ترجمہ ہے کہ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ سے صبر اور صلوۃ کے ساتھ مدد مانگو۔یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔اور جو اللہ کی راہ میں قتل کئے جائیں اُن کو مردے نہ کہو بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تم شعور نہیں رکھتے۔اور ہم ضرور تمہیں کچھ خوف اور کچھ بھوک اور کچھ اموال اور جانوں اور پھلوں کے نقصان کے ذریعہ آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دے۔اُن لوگوں کو جن پر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم یقینا اللہ ہی کے ہیں اور ہم یقینا اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔اور یہی لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے برکتیں ہیں اور رحمت ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو ہدایت پانے والے ہیں۔ان آیات کی تلاوت سے اندازہ تو ہو گیا ہو گا کہ آج جو مضمون میں بیان کرنے لگا ہوں وہ گزشتہ دنوں ہمارے بھائیوں اور بزرگوں کی جو شہادتیں ہوئی ہیں ان کے حوالے سے ہے۔ان آیات میں صبر، دُعا ،شہداء کا مقام، ابتلاؤں کی وجہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنے کی طرف توجہ اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام پانے والوں کا ذکر ہے۔اور یہ باتیں ہی ہیں جو ایک مومن کے حقیقی مومن ہونے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ان آیات میں سے جو پہلی آیت میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایمان لانے والوں کی نشانی یہ ہے کہ مشکلات کے وقت وہ گھبراتے نہیں۔بلکہ ہر مشکل ان کی توجہ خدا تعالیٰ کی طرف پھیرتی ہے اور خدا تعالیٰ ہی کی طرف ایک مومن کی توجہ پھر نی چاہئے اور کسی تکلیف پر ایک مومن کا فوری رد عمل یہ ہونا چاہئے کہ وہ اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة کا مظاہرہ کرے۔یعنی صبر اور دُعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد مانگے۔پس مومنوں کو اللہ تعالیٰ نے