خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 369
خطبات مسرور جلد ششم 369 خطبه جمعه فرمودہ 12 ستمبر 2008 ہوشیار کیا ہے کہ تمہیں مشکلات آئیں گی، تکلیفیں پہنچیں گی لیکن ایسی صورت میں تمہارے ایمان کی پختگی کا حال یہی ہے کہ ایک تو صبر سے ان کو برداشت کرنا ہے، کسی بے چینی اور گھبراہٹ کا اظہار نہیں کرنا، اللہ تعالیٰ سے کسی قسم کا شکوہ نہیں کرنا۔دوسرے ان کے دُور کرنے کے لئے انسانوں کے آگے نہیں جھکنا بلکہ صرف اور صرف خدا تعالیٰ کے آگے جھکنا ہے۔اُسی سے دعا مانگنی ہے۔اپنے ایمان میں استقامت اور ثبات قدم کے لئے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے اس کام پر استقلال سے قائم رہنا ہے جو خدا تعالیٰ نے مومنوں کے سپرد کیا ہے اور وہ کام ہے خدا تعالیٰ کی توحید کو دنیا میں قائم کرنا۔وہ کام ہے آنحضرت میہ کے کام کو دنیا میں پھیلانا۔وہ کام ہے دنیا کو زمانے کے امام کی جماعت میں شامل کر کے حقیقی اسلام سے روشناس کرانا۔اس کے لئے ہو سکتا ہے کہ تمہیں جان اور مال کے قربان کرنے کے امتحانوں سے گزرنا پڑے اور روحانی اذیتوں کا بھی سامنا کرنا پڑے۔روحانی اذیتیں کیا ہیں؟ ہمارے کلمہ کہنے پر پابندی لگائی جاتی ہے۔نمازیں پڑھنے پر پابندی لگائی جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو برے ناموں سے پکارا جاتا ہے۔علاوہ دوسری اذیتوں کے جو جسمانی اور مالی اذیتیں ہیں، یہ روحانی اذیتیں بھی ہیں تو ان سب اذیتوں سے اس کام کے لئے گزرنا پڑے گا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اس طرف توجہ دلانے اور ذہنی طور پر مومن کو ان تکلیفوں اور اذیتوں کے لئے تیار کرنے کے بعد فرمایا کہ اگر تم صبر، حو صلے اور دعاؤں کے ساتھ ان امتحانوں سے گزرنے کی کوشش کرو گے تو اللہ تعالیٰ پھر ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گا تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گا۔بلکہ وہ ایسے صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور انجام کار فتح ان صبر کرنے والوں کی ہی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ جان کی قربانی کرنے والوں کے مقام کے بارے میں فرماتا ہے کہ دین کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والوں کا خدا تعالیٰ کے نزدیک ایک بہت بڑا مقام ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دشمن تو تمہیں اس لئے قتل کرتا ہے کہ زندگی کا خاتمہ کر کے تمہاری جان لے کر عددی لحاظ سے بھی تمہیں کم اور کمزور کر دے۔لیکن یا درکھو کہ جب اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے تو ایک شخص یا چند اشخاص کا قتل جو خدا کے دین کے لئے ہو ، جماعتوں کو مُردہ نہیں کرتا۔بلکہ اللہ تعالیٰ جو دونوں جہاں کا مالک ہے اگر ایک انسان یہاں مرتا ہے تو دوسرے جہان میں جب زندگی پاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرتا ہے۔تو اللہ فرماتا ہے کہ ایک قتل سے جماعتیں مردہ نہیں ہو جایا کرتیں۔بلکہ ایک شخص کی موت کئی اور مومنوں کی زندگی کے سامان کر جاتی ہے۔ایک شہادت مومنوں کو خوفزدہ نہیں کرتی بلکہ ان میں وہ جوش ایمانی بھر دیتی ہے کہ ایمانی لحاظ سے کئی کمزوروں کو ہستیوں سے نکال کر باہر لے آتی ہے۔ایمان میں وہ زندگی کی حرارت پیدا کر دیتی ہے کہ خوفزدہ ہونے کی بجائے کئی اور سینہ تان کر دشمن کے آگے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ اے نادانو! تم سمجھتے ہو کہ ایک شخص کو مار کر تم نے ہمیں کمزور کر دیا ہے؟ تو سنو اس ایک شخص کی موت نے ہم میں وہ روح پھونک دی ہے جس نے ہمیں وہ زندگی عطا