خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 364 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 364

364 خطبہ جمعہ فرمودہ 5 ستمبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم پس جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے یہ پردے اٹھانے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے تا کہ قبولیت دعا کے نظارے ہمیشہ دیکھتے چلے جائیں اور اس کے لئے وہ دعا سب سے اہم ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہے اور ان میں سب سے اول دعا اس کے دین کے غلبہ کی دعا ہے۔انسانیت کو خدا تعالیٰ کے آگے جھکنے والا بنانے کے لئے دعا ہے۔آنحضرت ﷺ کے جھنڈے تلے دنیا کولانے کی دعا ہے۔یہ دعائیں ایسی ہیں جو یقیناً خدا تعالیٰ کے پیار کو جذب کرنے والی دعائیں ہیں اور جب ایک مومن خدا تعالیٰ کے دین کا در در کھتے ہوئے اس کے لئے دعائیں کر رہا ہو تو خدا تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق اپنے بندے کی ذاتی ضروریات کا بھی خیال رکھتا ہے اور خود پوری فرماتا ہے۔پس آج کل یہ دعائیں ہر احمدی کو بہت زیادہ کرنی چاہئیں جو اس کے دین کے غلبہ کی دعائیں ہوں، جو جماعت کے ہر فرد کے ایمان پر قائم رہنے کی دعا ہو۔آج رمضان کا پہلا جمعہ ہے۔یہ دن بھی بابرکت ہے اور یہ مہینہ بھی بابرکت ہے۔یعنی قبولیت دعا کے دو موقعے جمع ہو گئے ہیں۔خدا تعالیٰ کو پکارنے کے دو موقعے میسر آگئے ہیں۔حدیث میں ہے کہ جمعہ کے دن جمعہ کے وقت ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے جو بولیت دعا کی گھڑی ہوتی ہے۔(مسلم کتاب الجمعۃ باب فی الساعة التي في يوم الجمعۃ حدیث نمبر 1854) پھر یہ بھی آتا ہے کہ عصر سے مغرب تک ایسا وقت ہوتا ہے، کوئی وقت ایسا آتا ہے جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔پس آج کے دن اس برکت سے بھی فائدہ اٹھانے کی ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے۔عصر سے مغرب تک نوافل کا تو وقت نہیں ہوتا لیکن ذکر الہی ہے ، اور دوسری دعائیں ہیں جو انسان کر سکتا ہے۔مسنون دعائیں ہیں یا اپنی زبان میں دعائیں ہیں، یہ مانگنی چاہئیں تا کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو اور ہم قبولیت دعا کے نظارے دیکھ سکیں۔آج کل جماعت کو بھی مختلف جگہوں پر جو حالات پیش آرہے ہیں ، اس حوالے سے بھی بہت دعائیں کرنی چاہئیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہے جو ہمیں ہر قسم کی مشکلات سے نکالے گا اور خدا تعالیٰ کا قرب عطا فرمائے گا اور قبولیت دعا کے نظارے ہم دیکھیں گے۔انشاء اللہ۔پس اللہ تعالیٰ کے حضور خاص طور پر اور التزام سے یہ دعا کریں کہ وہ اسلام اور احمدیت کی فتح کے سامان ہماری زندگیوں میں پیدا فرمائے۔ہم بہت کمزور ہیں، ہماری کمزوریوں کو دور فرمائے۔ہماری غفلتوں کی پردہ پوشی فرمائے۔ہمیں اپنے قرب کے راستے دکھائے۔ہمارے لئے اپنی رضا کا حصول ہمارا مقصود بنادے اور یہ مقصد ہم حاصل کرنے والے بھی ہوں۔ہم بہت کمزور ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے گئے اللہ تعالیٰ کے وعدہ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ کہ رعب سے تیری مدد کی گئی، سے ہم بھی حصہ لینے والے ہوں تا کہ دشمن پر مسیح موعود کے رعب کے نظارے ہم ہر وقت دیکھتے رہیں۔