خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 363 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 363

363 خطبہ جمعہ فرمودہ 5 ستمبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم میں ترقی ہوتی رہے۔اور ہر سال روزہ بھی، رمضان کا مہینہ بھی اس مجاہدے اور ایمان میں ترقی کی ایک کڑی ہے۔پس ان دنوں میں ہر مومن کو اس سے بھر پور فیض اٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس بات کا جائزہ لینے کے لئے کہ ایمان میں ترقی ہے اور ایمان میں ترقی کا معیار دیکھنے کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ نشانی بتائی کہ اگر خالص ہو کر میرے حضور آؤ گے ، روزے بھی میری خاطر ہوں گے، کوئی دنیا کی ملونی اس عبادت میں نہیں ہوگی ، خالص میری رضا کا حصول ہوگا تو فرمایا أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ میں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے اور یہ پکار اسی وقت سنی جائے گی جب ایمان میں ترقی کی طرف کوشش ہوگی۔ترقی کی طرف قدم بڑھیں گے گویا دعاؤں کی قبولیت اس وقت ہوگی جب ایمان میں ترقی کی طرف قدم بڑھ رہے ہوں گے اور ایمان میں ترقی اس وقت ہوگی جب خالص ہو کر خدا تعالیٰ کے احکامات کی پیروی اور اس کی عبادت کرنے کی کوشش ہورہی ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: جب میرا بندہ میری بابت سوال کرے، پس میں بہت ہی قریب ہوں۔میں پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ پکارتا ہے۔بعض لوگ اس کی ذات پر شک کرتے ہیں۔پس میری ہستی کا نشان یہ ہے کہ تم مجھے پکارو اور مجھ سے مانگو، میں تمہیں پکاروں گا اور جواب دوں گا اور تمہیں یاد کروں گا۔اگر یہ کہو کہ ہم پکارتے ہیں پر وہ جواب نہیں دیتا تو دیکھو کہ تم ایک جگہ کھڑے ہو کر ایک ایسے شخص کو جو تم سے بہت دُور ہے پکارتے ہو اور تمہارے اپنے کانوں میں کچھ نقص ہے۔وہ شخص تمہاری آواز سن کر تم کو جواب دے گا، مگر جب وہ دُور سے جواب دے گا تو تم باعث بہرہ پن کے سن نہیں سکو گے۔پس جوں جوں تمہارے درمیانی پر دے اور حجاب اور دُوری دُور ہوتی جاوے گی تو تم ضرور آواز کو سنو گے۔جب سے دنیا کی پیدائش ہوئی ہے اس بات کا ثبوت چلا آتا ہے کہ وہ اپنے خاص بندوں سے ہمکلام ہوتا ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو رفتہ رفتہ بالکل یہ بات نابود ہو جاتی کہ اس کی کوئی ہستی ہے بھی؟ پس خدا کی ہستی کے ثبوت کا سب سے زبر دست ذریعہ یہی ہے کہ ہم اس کی آواز کو سن لیں۔یاد یداریا گفتار“۔یا د یکھ لیں یا بات کر لیں۔پس آج کل کا گفتار قائمقام ہے دیدار کا۔ہاں جب تک خدا کے اور اس کے سائل کے درمیان کوئی حجاب ہے اس وقت تک ہم سن نہیں سکتے۔جب درمیانی پردہ اٹھ جاوے گا تو اس کی آواز سنائی دے گی“۔( الحکم۔جلد 8 نمبر 38-39 مورخہ 10-17 نومبر 1904 صفحہ 7-6 - بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد اول صفحہ 650) پس اللہ تعالیٰ نے ہمیں موقع دیا ہے کہ یہ درمیانی پر دے اور حجاب ہٹانے کی کوشش کریں۔اس کے قریب تر آنے کی کوشش کریں۔یہ نہ ہو کہ رمضان میں تو قریب آنے کی کوشش ہو اور پھر اس کے بعد فاصلے اتنے بڑھ جائیں کہ وہ پردے اور حجاب پھر راستے میں حائل ہو جائیں اور اگلے سال پھر نئے سرے سے مجاہدے کی کوشش ہو۔