خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 332 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 332

332 خطبه جمعه فرمودہ 15 اگست 2008 خطبات مسرور جلد ششم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباس میں جو میں نے اس اقتباس میں سے بیان کیا تھا کہ تین نیکیاں ہیں جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ اس سے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ادا ہو رہا ہے اور بندوں کا بھی۔لیکن اس آیت کے دوسرے حصے میں تین برائیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔اور ایک انسان جو خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا ہو اس سے کبھی یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ یہ برائیاں بھی کر سکے جن کا ذکر اس آیت میں آیا ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ اعلان ہے کہ عبادتیں ان چیزوں سے، ان برائیوں سے دور لے جانے والی ہیں۔اگر انسان خالص ہو کر عبادت کرے اور نمازیں پڑھے تو ان چیزوں سے دور ہٹ جاتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَ الْمُنْكَرِ (العنکبوت : 46 ) که یقینا نماز سب بری اور ناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہے۔پس جہاں اللہ تعالیٰ ایک کے بعد دوسری نیکی اختیار کرنے کی طرف توجہ دلاتا ہے تا کہ نیکی کے معیار بڑھتے چلے جائیں اور ایک وقت ایسا آئے جب بندہ خالصتاً خدا تعالیٰ کا ہو کر اس کی مرضی کے مطابق کام کرے اس کی رضا کے حصول کے لئے اس کی ہر حرکت ہو۔وہاں اس طرف بھی توجہ دلائی کہ ان نیکیوں کے حصول کے لئے برائیوں کے خلاف جہاد بھی ضروری ہے۔ورنہ یہ برائیاں ان نیکیوں کے بجالانے میں روک بنتی رہیں گی۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فحشاء سے بچو، فحشاء کے لفظ میں ان بدیوں کی طرف اشارہ ہے جن کا صرف بدی کرنے والے کو پتہ ہو۔دوسروں کو اس کا علم نہ ہو یا کافی حد تک وہ برائی دوسروں سے چھپی ہو۔پس جب ایک انسان خالص مومن بنتے ہوئے اور سچا عابد بنتے ہوئے خدا تعالیٰ کے آگے جھکتا ہے تو سب سے پہلے وہ اپنے نفس کو سامنے رکھ کر، اپنی برائیوں کو دیکھ کر خدا تعالیٰ سے ان کے دُور کرنے کی دعا مانگتا ہے اور جب یہ کیفیت ہوتی ہے تو پھر وہ انصاف اور عدل ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس کے ساتھ کر رہا ہوتا ہے۔کیونکہ جب تک نفس کلیتا پاک کرنے کی کوشش نہ ہو خدا تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکتا اور اسی طرح جب نفس پر نظر نہ ہو ایک ایک بدی کو باہر نکال کر پھینکنے کی کوشش نہ ہو۔پھر دوسروں سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کر سکتا۔پس باہر کے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے پہلے اپنے نفس کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنا ہوگا اور جب ایک مومن اس کی کوشش کرتا ہے تو پھر اس کی توجہ خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف پھرتی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ منکر سے بچو۔یعنی نا پسندیدہ باتوں سے بچو۔وہ باتیں جو براہ راست دوسروں کو نقصان پہنچانے والی تو نہیں ہوتیں لیکن لوگ اس کو دیکھ کر برا محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔مثلاً بعض دفعہ لوگوں کو جھوٹ بولنے کی ایسی عادت ہوتی ہے کہ چاہے دوسرے کو نقصان نہیں بھی ہو رہا ، یا اپنا