خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 331 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 331

331 خطبه جمعه فرمودہ 15 اگست 2008 خطبات مسرور جلد ششم اللہ تعالیٰ سے محبت پھر بے غرض محبت ہو جائے یہ نہیں کہ مشکل میں گرفتار ہوئے تو مسجدوں میں آنا شروع کر دیا اور لمبے لمبے سجدے شروع ہو گئے اور عبادتیں شروع ہو گئیں اور جہاں آسانیاں ملیں اور کشائش ملی پیسے کی فراوانی آئی۔تو اللہ تعالیٰ کو بھول گئے نمازوں کو بھول گئے عبادتوں کو بھول گئے۔پھر آپ فرماتے ہیں اور دوسرے طور پر جو ہمدردی بنی نوع سے متعلق ہے اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ اپنے بھائیوں اور بنی نوع سے عدل کرو اور اپنے حقوق سے زیادہ ان سے کچھ تعرض نہ کرو اور انصاف پر قائم رہو اور اگر اس درجہ سے ترقی کرنی چاہو تو اس سے آگے احسان کا درجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تو اپنے بھائی کی بدی کے مقابل نیکی کرئے“۔اگر کسی سے کوئی تکلیف پہنچی ہے تو بجائے اس کا بدلہ لینے کے اصلاح اگر نیکی سے ہوسکتی ہے تو نیکی کرئے اور اس کی آزار کے عوض میں تو اس کو راحت پہنچاوے“۔جو تکلیف تمہیں دی ہے اس کے عوض میں اس کو خوشی پہنچانے کی کوشش کرو اور مروت اور احسان کے طور پر دستگیری کرے۔یہ ہے احسان۔پھر بعد اس کے اِيْتَائِی ذِي الْقُرْبی کا درجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تو جس قد را اپنے بھائی سے نیکی کرے یا جس قدر بنی نوع سے خیر خواہی بجالا وے اس سے کوئی اور کسی قسم کا احسان منظور نہ ہو بلکہ طبعی طور پر بغیر پیش نہاد کسی غرض کے وہ تجھ سے صادر ہو جیسی شدت قرابت کے جوش سے ایک خولیش دوسرے خولیش کے ساتھ نیکی کرتا ہے“۔ایک رشتہ دار دوسرے رشتہ دار سے، ایک قریبی دوسرے قریبی سے جس طرح نیکی کرتا ہے اس طرح نیکی کرو۔یہ ایسائی ذی القربی ہے۔سو یہ اخلاقی ترقی کا آخری کمال ہے کہ ہمدردی خلائق میں کوئی نفسانی مطلب با مد عایا غرض درمیان نہ ہو۔بلکہ اخوت و قرابت انسانی کا جوش اس اعلی درجہ پر نشو ونما پا جائے کہ خود بخود بغیر کسی تکلف کے اور بغیر پیش نہا در کھنے کسی قسم کی شکر گزاری یاد عایا اور کسی قسم کی پاداش کے وہ نیکی فقط فطرتی جوش سے صادر ہو“۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 550-552) یہ وہ خوبصورت تفسیر ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس آیت کے پہلے حصہ کی کی ہے جو اُس انصاف کی وضاحت کرتی ہے جس کی ایسے شخص سے توقع کی جاتی ہے جو خدا تعالیٰ کے لئے خالص ہو کر اس کی عبادت کا دعویٰ کرتا ہے۔ہم جو احمدی کہلاتے ہیں جن کا یہ دعویٰ ہے کہ ہم اُس اُسوہ پر چلنے کی کوشش کرنے والے ہیں جو آنحضرت ﷺ نے ہمارے سامنے قائم فرمایا اور ہم اس تعلیم پر عمل کرنے والے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ پر اتاری اور جس کا حقیقی فہم و ادراک ہمیں اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عطا فرمایا۔پس اگر ہم صرف زبانی دعووں تک رہتے ہیں اور اپنی عملی حالتوں کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتے تو ہمارے یہ دعوے کوئی وقعت نہیں رکھتے۔