خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 333 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 333

خطبات مسرور جلد ششم 333 خطبه جمعه فرمودہ 15 اگست 2008 کوئی فائدہ نہیں بھی ہو رہا، عادتاً ہر بات کو غلط انداز میں پیش کرنے کی عادت ہوتی ہے۔یا ایسے گول مول انداز میں پیش کرتے ہیں جس سے بات واضح ہی نہ ہو سکے۔بعض لوگوں کو گالیاں نکالنے کی عادت ہوتی ہے۔اسی طرح ایک قصہ ہے کسی شخص کی حضرت خلیفہ مسیح الثانی کی خدمت میں رپورٹ ہوئی کہ وہ گالیاں بڑی دیتے ہیں۔حضرت خلیفہ مسیح الثانی نے ان کو بلا کر پوچھا کہ سنا ہے آپ گالیاں بڑی دیتے ہیں۔تو انہوں نے ایک گالی دے کر کہا کون کہتا ہے میں گالی دیتا ہوں۔تو بعض لوگ عادتا گالیاں دے رہے ہوتے ہیں۔تو اس چیز سے بھی پاک کرنا ہے۔کیونکہ جھوٹ جو ہے، غلط بیانی جو ہے چاہے نقصان نہ پہنچانے کے لئے بھی کی جارہی ہو تب بھی جب اس کی عادت پڑ جاتی ہے تو انسان پکا عادی جھوٹا بن جاتا ہے اور پھر یہاں تک ہو جاتا ہے کہ اپنے مفاد کے لئے غلط حربے استعمال کرتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایسے لوگ پھر خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے نہیں ہوتے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ اعلان ہے کہ خالص ہو کر نماز پڑھنے والوں میں یہ برائیاں پیدا ہوہی نہیں سکتیں ، جیسا کہ میں نے ابھی آیت کا حصہ پڑھا۔پھر تیسری برائی جو یہاں بیان فرمائی ، فرمایا وہ بغی یعنی بغاوت ہے، دوسروں کا حق مارنا ہے، معاشرے میں فساد پیدا کرنا ہے۔اور جب انسان دوسرے کا حق مارنا شروع کر دے اور معاشرے میں فساد پھیلانے کا باعث بن جائے تو وہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں کر سکتا۔اس کی نمازوں سے وہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا جس کے لئے وہ مسجد میں آنے کی کوشش کرتا ہے یا آتا ہے۔یہ تو نہیں ہوسکتا کہ ایک طرف تو اعلان ہو کہ میں نے یہ مسجد اس لئے بنائی ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہوئے عدل اور انصاف قائم کروں اور دوسری طرف باغیانہ رویہ ہو۔پس اللہ تعالیٰ نے اس رویہ سے بچنے کے جو طریق بتائے ہیں ان پر چلنا انتہائی ضروری ہے اور اس کے لئے سب سے بنیادی چیز جیسا کہ میں نے بتایا یہی ہے کہ اپنے اندر جھانک کر اپنا جائزہ لیتے ہوئے ، اپنے نفس کو پاک کرے۔پھر ہی معاشرے کو تکلیف دینے والی معمولی برائیاں بھی دُور ہوں گی اور تبھی بغاوت کی بدی سے بھی انسان بچے گا۔کیونکہ اگر یہ چیز میں قائم رہیں تو پھر یہ نظام جماعت سے بھی دور لے جانے والی ہوتی ہیں اور پھر خلافت کی اطاعت کا بھی انکار کر وادیتی ہیں۔اور پھر ہم نے دیکھا ہے کہ ایسے لوگ پھر اللہ تعالیٰ کی خالص ہو کر عبادت کرنے سے بھی محروم ہو جاتے ہیں بلکہ ظاہری عبادت سے بھی محروم ہو جاتے ہیں پھر ان کی عبادت خالص تو رہتی نہیں۔کیونکہ ظاہر ہے جو باغی ہو گا وہ انصاف کے تقاضے بھی پورے نہیں کرے گا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی خالص ہو کر کر ہی نہیں سکتا۔کسی بھی باغی کو آپ دیکھ لیں وہ اپنی انانیت کے جال میں پھنسا ہوتا ہے اور جوانانیت کے جال میں پھنس جائے وہ کبھی عاجزی نہیں دکھا سکتا اور جو عاجزی نہ دکھائے وہ خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کا عبادت گزار بھی نہیں بن سکتا اور نہ ہی انصاف کے تقاضے پورے کرسکتا ہے۔