خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 325 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 325

خطبات مسرور جلد ششم 325 (33) خطبه جمعه فرمودہ 15 اگست 2008 فرمودہ مورخہ 15 راگست 2008ء بمطابق 15 رظہور 1387 ہجری شمسی بمقام ہمبرگ (Hamburg) (جرمنی) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی: قُلْ أَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ وَأَقِيْمُوا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّادْعُوْهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الذِيْنَ كَمَا بدَاكُمْ تَعُودُونَ (الاعراف: 30) عموماً جرمنی کے جلسہ سے پہلے میں جب بھی جرمنی آیا ہوں، فرینکفرٹ کے علاوہ کہیں دوسری جگہ نہیں جاتا ، نہ گیا ہوں۔بلکہ اس دفعہ جلسہ جرمنی جلدی ہو رہا ہے اس لئے لندن سے بھی جرمنی کے لئے جلد روانہ ہونا پڑا اور UK کے جلسے میں باہر سے جو مہمان آئے ہوئے تھے ان سے ملاقاتیں بھی بڑی تیزی سے کرنے کی کوشش کی گئی کیونکہ خاصی بڑی تعداد UK میں اس دفعہ پاکستان سے بھی اور دوسرے ملکوں سے آئی ہے۔لیکن میرا خیال ہے کہ بہت سارے لوگ ملاقاتوں سے رہ بھی گئے کیونکہ جلد جرمنی آنا پڑا۔ایک تو وجہ ایک ہفتہ پہلے جرمنی کا جلسہ سالانہ اس دفعہ منعقد ہو رہا ہے۔دوسرے امیر صاحب جرمنی کا بڑا زور تھا کہ ہمبرگ آئے ہوئے بڑا عرصہ ہو گیا اس لئے یہاں کا بھی دورہ ہو جائے اور یہاں قریب ہی مساجد بھی بنی ہیں ان کا افتتاح بھی ہو جائے۔گویا دو مساجد کا افتتاح ہوگا۔ایک تو کل ہو چکا ہے جو سٹاڈے میں بیت الکریم ہے اور دوسرے کل انشاء اللہ واپسی پر ہینوور (Hannover) میں بیت السمیع کا افتتاح ہوگا۔کیونکہ رمضان بھی اس سال جلدی آ رہا ہے اس لئے جلسہ کے بعد جو مساجد کے افتتاح کے پروگرام عموماً ہوا کرتے ہیں، ان کو پہلے کرنا پڑ رہا ہے۔ظاہر ہے جلسہ کے بعد پھر رکنے کا سوال نہیں تھا۔تو بہر حال آج مساجد کے موضوع پر ہی میں بات کروں گا۔مساجد جیسا کہ ہم جانتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے بنائی جاتی ہیں اور اس لحاظ سے یہ مساجد ایک احمدی مسلمان کی زندگی کا بہت اہم حصہ ہیں اور ہونی چاہئیں۔ان کی اہمیت کے پیش نظر میں کوشش کرتا ہوں کہ جہاں جہاں بھی ہو سکے خود جاکران مساجد کا افتتاح کروں۔گزشتہ پانچ سال میں جرمنی میں بھی اور دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی جماعت کی توجہ مساجد کی تعمیر کی طرف بہت زیادہ ہوئی ہے اور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے