خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 326
326 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرمودہ 15 اگست 2008 ارشاد کی روشنی میں جماعت کو اس طرف توجہ بھی دلاتا رہتا ہوں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جہاں بھی جماعت کو متعارف کرانا ہے، اسلام کی تبلیغ کرنی ہے اور اسلام کی حسن و خوبی سے مزین تعلیم کولوگوں تک پہنچانا ہے ، وہاں مسجد کی تعمیر کر دو۔جس سے اپنی تربیت کے بھی مواقع ملیں گے اور تبلیغ کے بھی مواقع ملیں گے۔اللہ کرے کہ جب بھی ہم کسی مسجد کی تعمیر کا سوچیں اور اس کی تعمیر کریں یہ اہم مقاصد ہمیشہ ہمارے سامنے رہیں۔پس اس حوالے سے اگر ہر احمدی مرد، عورت، جوان، بوڑھا اپنا جائزہ لیتا رہے گا تو مساجد کی تعمیر سے فیض پانے والا ہوگا۔ایک وقت تھا جب ہمبرگ میں ایک چھوٹی سی مسجد تھی۔احمدیوں کی تعداد بھی محدود تھی اور وہ مسجد ضرورت کے لحاظ سے کافی تھی۔علاقے کے لوگوں پر بھی اس مسجد کا بڑا اچھا اثر ہوا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تک ہے لیکن پھر ضرورت کے پیش نظر جماعت کی تعداد بڑھی تو آپ لوگوں نے ایک بڑی جگہ جو بیت الرشید کے نام سے موسوم ہے وہ خریدی ، جس میں بڑے ہال بھی ہیں اور مسجد کا حصہ ملا کے شاید ہزار بارہ سو تک نمازی اس میں نماز پڑھ سکتے ہیں اور پہلے جب بھی میں آیا ہوں تو میں نے دیکھا ہے کہ مسجد پوری بھری ہوتی ہے۔نزدیکی جماعتوں کے لوگ بھی جمعہ پڑھنے کے لئے آ جاتے تھے تو مارک لگانی پڑتی تھی۔تو وہ جگہ بھی چھوٹی پڑ جاتی تھی بلکہ اس دفعہ تو گل میں دیکھ رہا تھا کہ مغرب اور عشاء کی نمازوں پر بھی وہ جگہ چھوٹی تھی اور لوگ باہر نمازیں پڑھ رہے تھے اس لئے آج یہاں اس ہال میں جمعہ کا انتظام کیا گیا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہم چھلانگ لگا کر جب بڑی چیز بناتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنا فضل فرماتے ہوئے ضرورت کو اور بڑھا دیتا ہے اور جب تک ہم خالص اس کے بندے ہوتے ہوئے یہ کوشش کرتے رہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے گھروں کو آباد کریں اللہ تعالیٰ بھی ضرورتیں بڑھاتا چلا جائے گا اور جماعت انشاء اللہ بڑھتی چلی جائے گی۔پس ہمیشہ ہر ایک کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہمیں مساجد کے حسن کو دوبالا کرنے کے لئے ہمیشہ کوشش کرتے رہنا چاہئے اور وہ کوشش کس طرح ہوگی؟ وہ کوشش اس طرح ہوگی جس طرح اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول انے ہمیں بتایا ہے کہ اس طرح کوشش کرو۔وہ طریق بتائے ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے، ترجمہ اس کا یہ ہے کہ تو کہہ دے کہ میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے نیز یہ کہ تم ہر مسجد میں اپنی تو جہات اللہ کی طرف سیدھی رکھو اور دین کو اس کے لئے خالص کرتے ہوئے اُسی کو پکارو۔جس طرح اُس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا اسی طرح تم مرنے کے بعد لوٹو گے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسجد میں آنے والوں کو بعض باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ہر مومن کا پہلا فرض ہے کہ وہ اعلان کرے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے انصاف کا حکم دیا ہے۔اور انصاف کیا ہے؟ اس بارے میں اللہ تعالیٰ ایک اور جگہ سورۃ نساء آیت 59 میں فرماتا ہے کہ اِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الا مَنتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ۔إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ۔إِنَّ اللهَ كَانَ سَمِيْعًا بَصِيرًا ( النساء آيت: 59)