خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 296
296 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جولائی 2008 خطبات مسرور جلد ششم بہر حال آج تو برطانیہ کے جلسہ کا ذکر ہونا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کے فضل سے عارضی انتظامات کے لحاظ سے تو اتنے وسیع انتظامات سخت قانونی پابندیوں کے ساتھ کہیں بھی نہیں ہوتے۔تعداد کے لحاظ سے بھی، گزشتہ چند سالوں سے جو جلسے ہو رہے ہیں ان میں جرمنی اور برطانیہ کے جلسے برابر ہوتے ہیں۔اس سال گھانا کا جلسہ تعداد کے لحاظ سے بہت آگے نکل گیا تھا۔پاکستان کا میں نے ذکر نہیں کیا کیونکہ وہاں تو نام نہاد حق و انصاف اور آزادی کا دعوی کرنے والی حکومتیں گزشتہ 24 سال سے ہمیں جلسے کرنے نہیں دے رہیں۔پتہ نہیں اس امن پسند جماعت سے ان لوگوں کو کیا خوف ہے۔جلسہ کے ان دنوں میں میں آپ لوگوں کو یہ بھی تحریک کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کے حالات کے لئے بہت دعا کریں۔ایک تو عمومی ملکی حالات کے لئے بھی کہ پتہ نہیں حکمران ملک کو کس طرف لے جا رہے ہیں اور اس ملک کا کیا کرنا چاہتے ہیں۔جب گزشتہ الیکشن ہوئے تو مولوی کو اس سال حکومت نہیں ملی تو وہ اپنی فطرت کے مطابق اس کا پورے ملک سے بدلہ لے رہا ہے اور جگہ جگہ فساد کر کے ملک کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔اور حکمران اور سیاستدان باوجود اس حقیقت کے ظاہر ہو جانے کے کہ عوام نے کس طرح عمومی طور پر الیکشن میں انہیں رڈ کیا ہے ، ملاں سے خوفزدہ ہیں۔اور بجائے اس کے کہ ان کی مفسدانہ حرکتوں کو تختی سے کچلیں ان کے آگے یوں جھکے ہوئے ہیں ، یوں ان سے باتیں ہوتی ہیں جیسے ان کے زیر نگیں ہوں۔بہر حال اللہ تعالیٰ ہمارے ملک پر رحم کرے۔دوسرے پاکستان کے احمدیوں کے لئے بھی دعا کریں، احمدی آزادی سے اپنے جو بھی فنکشنز ہیں وہ منعقد کر سکیں ، سکھ کا سانس لے سکیں ، اپنے جلسے پوری شان وشوکت سے منعقد کر سکیں، ظالمانہ قانون کا خاتمہ ہو۔اللہ تعالیٰ ان ارباب حل و عقد کو عقل دے جو اس بات کو سمجھتے نہیں کہ کس طرف وہ جارہے ہیں اور کیا ان کے ساتھ ہونے والا ہے۔ان دنوں میں خاص طور پر پاکستان سے آئے ہوئے احمدی پاکستان کے لئے بھی اور پاکستان کے احمدیوں کے لئے بھی بہت دعائیں کریں۔پھر میں واپس یو کے (UK) کی طرف لوٹتا ہوں۔گزشتہ جمعہ میں میں نے کارکنان کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی تھی۔یہ میرا طریق ہے جس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ کارکنان صحیح کام نہیں کرتے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر دوسری جماعت کی طرح یہاں کے کارکنان بھی بہت جذبہ سے کام کرتے ہیں۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ اتنے وسیع عارضی انتظامات اور ان کے لئے لمبی تیاری بھی اتنی زیادہ کہیں نہیں ہوتی جتنی یہاں ہوتی ہے۔جرمنی کا جلسہ گو تعداد کے لحاظ سے یو۔کے (UK) کے جلسہ کے برابر ہے لیکن ان کو کافی سہولتیں جلسہ گاہ میں میسر آ جاتی ہیں جو یہاں نہیں ہیں۔گزشتہ سال کارکنوں کو اللہ تعالیٰ نے ایک نیا تجربہ کر دیا۔یعنی موسم کی وجہ سے بارشوں نے کافی نظام درہم برہم کر دیا تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے کارکنان نے بڑے احسن رنگ میں ان مشکل حالات میں