خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 297 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 297

297 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جولائی 2008 خطبات مسرور جلد ششم بھی اپنی ڈیوٹیاں دیں۔مشکلات کا سامنا اپنے اپنے دائرے میں ہر شعبے کو کرنا پڑتا ہے اور اس لئے گزشتہ سال کرنا پڑا۔اس سال بظاہر تو موسم کی پیشگوئیاں اچھی ہیں۔خدا کرے کہ اچھی رہیں، دعائیں کرتے رہیں۔اصلی کنجی تو ہر بات اور ہر چیز کی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔اس کے فضل کے بغیر تو کوئی چیز نہیں ہے۔وہ چاہے تو یہ موسمی پیشگوئیاں سچ ثابت ہوتی ہیں۔انسان کا تو ایک اندازہ ہے جس پر بنیاد کر کے وہ موسم کا حال بتاتا ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ گزشتہ سال کے موسم کا ایک فائدہ ہوا ہے کہ خدام کو نئے تجربے ہو گئے۔خدام جو ابھی تک صاف سڑکوں اور خشک جگہوں کے ماہر تھے ، اب کیچڑ کے بھی ماہر ہو گئے ہیں۔کسی نے کہا تھا کہ ”ہمارا گر وکھوبے کا ماڑا ہے ، لیکن اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے گرو کی بات نہیں اب ہمارے خدام بھی باوجود یو۔کے (UK) میں رہنے کے کھوبے کے ماہر ہو گئے ہیں۔اب میرے خیال میں کوئی گاڑی کیچڑ میں پھنس بھی جائے تو ان کی ٹریننگ اتنی ہو گئی ہے کہ آرام سے نکال سکتے ہیں۔بہر حال آنے والے مہمانوں سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کارکنان تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی محنت سے کام کرتے ہیں اور انشاء اللہ کریں گے۔لیکن مہمانوں کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں۔جنہیں نبھانا آپ کا فرض ہے۔سب سے پہلی بات تو یہ یادرکھیں کہ خالصتاً یہاں جلسہ میں شامل ہونے کا مقصد للہی ہونا چاہئے۔اس لئے اس مقصد کو ہمیشہ سامنے رکھیں اور اس میں سب سے اہم چیز نمازوں کی ادائیگی ہے۔صرف جلسہ میں بیٹھ کر، دلچسپی کی چند تقریریں سن کر آپ کے اس سفر کا مقصد پورا نہیں ہو جاتا۔بلکہ ان دنوں میں ہر ایک ایسی پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرے کہ ان دنوں میں کی گئی عبادتیں اور نماز میں جلسہ میں شامل ہونے والوں کی زندگی کا ایک دائمی حصہ بن جائیں۔ایسی نمازیں ہوں جن میں صرف خشوع و خضوع نہ ہو، تمام نمازیں وقت پر پڑھنے کی کوشش بھی کریں۔بلکہ یہ لازمی کریں کہ باجماعت نمازیں ادا کرنی ہیں۔یہاں نمازوں اور جلسہ کے دوران بازار عموماً بند رہتے ہیں۔اس لئے نئے آنے والے مہمان اور پرانے مہمان بھی اس طرف جانے کی کوشش نہ کریں۔بعض دفعہ بلا وجہ قواعد توڑنے کی کوشش کی جاتی ہے اور پھر اس طرح یہ زیادتی کر کے کارکنان کے لئے بھی مشکل کا باعث نہ بنیں۔پھر یہاں جلسہ گاہ میں تو عموماً جلسہ کے دنوں میں اجتماعی تہجد کے لئے انتظام ہوگا اور یہاں لوگ آتے بھی ہیں لیکن دوسری قیام گاہوں میں بھی ان کے رہنے والے بھی اس بات کی پابندی کریں۔اسلام آباد میں اجتماعی قیام گاہ ہے اسی طرح بیت الفتوح میں ہوگی، وہاں بھی تہجد اور فجر کی نماز کی پابندی کی کوشش کریں۔پھر ایک بہت بڑی تعداد گھروں میں رہ رہی ہے۔وہ بھی اگر کوئی سنٹر نز دیک ہے یا اس تک پہنچنا آسان ہے تو فجر اور مغرب عشاء سے اگر پہلے چلے گئے ہیں تو مغرب عشاء کی نمازیں باجماعت سنٹر یا مسجد میں جا کر ادا کرنے کی کوشش کریں۔لندن میں رہنے والے جو لوگ ہیں ، روزانہ جانے والے، خود بھی اس کی پابندی کریں