خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 295
خطبات مسرور جلد ششم 295 (30) خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جولائی 2008 فرمودہ مورخہ 25 جولائی 2008 ء بمطابق 25 روفا 1387 ہجری کشسی بمقام حدیقۃ المہدی آلٹن ہمپشائر (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج انشاء اللہ با قاعدہ افتتاح کے ساتھ شام کو جماعت احمدیہ یو کے کا جلسہ سالانہ شروع ہورہا ہے۔اس سال کا جلسہ سالانہ خلافت احمدیہ کے سو سال پورے ہونے اور اس سو سال میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں، رحمتوں اور نصرتوں کی بارش کے شکرانے کے لئے جمع ہونے کی وجہ سے یہ جلسہ ایک خاص اہمیت کا جلسہ بن گیا ہے، بوڑھے، جوان، مرد، عورت، ہر احمدی کے دل میں اس کی خاص اہمیت ہے اور اس اہمیت کے پیش نظر اس سال جماعت احمدیہ برطانیہ کی انتظامیہ نے اندرون ملک بھی اور بیرون از برطانیہ بھی زیادہ مہمانوں کی متوقع آمد کے پیش نظر اپنے انتظامات میں وسعت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور مجھے امید ہے کہ معمولی کمیوں کے علاوہ جو ایسے وسیع انتظامات میں جو عارضی بنیادوں پر کئے گئے رہ جاتی ہیں عمومی طور پر انتظامات اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہتر رہیں گے۔انشاء اللہ۔ایک لمبے تجربہ نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے کارکنان کو اپنے اپنے کاموں کا ماہر بنا دیا ہے اور اس پر جب ایک احمدی کا جذبہ ایمان بھی شامل ہو جائے تو پھر تو کارکنوں کے کام میں ایک دیوانگی ہوتی ہے اور اس سال تو جیسا کہ میں نے کہا خلافت جو بلی کا جلسہ بھی ہے۔ہر کارکن بچے، جوان، بوڑھے میں ایک خاص جذ بہ ہے اور یہ جذبہ اس سال خاص رنگ میں جہاں جہاں بھی جلسے ہورہے ہیں، جن جن ملکوں میں بھی میں گیا ہوں نظر آ رہا ہے۔چاہے وہ گھانا اور نائیجیریا کی پرانی جماعتوں کے جلسے ہوں یا بینن کی نئی جماعت کا جلسہ سالانہ یا امریکہ یا کینیڈا کا جلسہ۔امریکہ کے احمدیوں کے بارے میں بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں، پتہ نہیں کیوں دوسری دنیا کے احمدیوں کو یہ خیال تھا کہ وہاں کے جلسہ میں وہ جوش اور رونق نہیں ہوگی جو باقی دنیا میں نظر آتی ہے۔اکثر خطوں میں اب بھی جو مجھے آرہے ہیں اس کا ذکر ہوتا ہے۔شاید اس لئے یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ جو عمومی تاثر امریکہ کے بارے میں ہے اس میں ہمارے احمدی بھی رنگے گئے ہوں گے کیونکہ کافی تعداد وہیں پلے بڑھے نو جوانوں کی ہے۔لیکن ایک تو یہ عمومی تاثر عوام کے بارہ میں بھی غلط ہے۔عمومی طور پر وہاں کے عوام بہت اچھے ہیں اور جہاں تک احمدی کا سوال ہے جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، وہ کسی بھی طرح کم نہیں ہیں، الحمد للہ۔یہ سب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے کی برکت ہے۔