خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 287
287 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 جولائی 2008 خطبات مسرور جلد ششم آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے گو کہ انتظام ہر قوم کے لئے تو نہیں مختلف دو تین طرز کا کھانا پکتا ہے لیکن جو کھلانے والے ہیں ، جو مہمان نوازی کرنے والے ہیں ان کا بھی فرض ہے کہ مزاج کے مطابق ان کو کھانا مہیا کر دیا کریں۔حضرت مولوی حسن علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں (یہ ان کا اپنی بیعت سے پہلے کا واقعہ ہے وہ 1887ء میں پہلی دفعہ قادیان گئے تھے ) لکھتے ہیں کہ مرزا صاحب کی مہمان نوازی کو دیکھ کر مجھ کو بہت تعجب سا گزرا۔ایک چھوٹی سی بات لکھتا ہوں جس سے سامعین ان کی مہمان نوازی کا اندازہ کر سکتے ہیں۔کہتے ہیں کہ ”مجھ کو پان کھانے کی بری عادت تھی ، امرتسر میں تو مجھے پان ملا لیکن بٹالے میں مجھ کو کہیں پان نہ ملا۔ناچارالا نچی وغیرہ کھا کرصبر کیا۔میرے امرتسر کے دوست نے کمال کیا کہ حضرت مرزا صاحب سے نہ معلوم کس وقت میری اس بُری عادت کا تذکرہ کر دیا۔جناب مرزا صاحب نے گورداسپور ایک آدمی کو روانہ کیا، دوسرے دن گیارہ بجے دن کے جب کھانا کھا چکا تو پان موجود پایا۔سولہ کوس سے پان میرے لئے منگوایا گیا تھا۔(سیرت حضرت مسیح موعود مرتبہ یعقوب علی عرفانی۔جلد اول۔صفحہ 135-136) امرتسر وہاں سے 16 میل تھا وہاں سے حضرت مسیح موعود نے ان کے لئے پان منگوایا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو کہا بھی تھا کہ دوبارہ آئیں۔چنانچہ نیک فطرت ، سعید فطرت تھے ، 1894ء میں پھر دوبارہ قادیان جا کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کر لی کیونکہ پہلی دفعہ جب گئے ہیں، تو اس وقت تو ابھی آپ نے بیعت نہیں لی تھی۔ایک روایت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھی ہے، مولوی عبداللہ سنوری صاحب کے حوالے سے کہ " حضرت مسیح موعود بیت الفکر میں ( مسجد مبارک کے ساتھ والے حجرہ میں جو حضرت صاحب کے مکان کا حصہ ہے ) لیٹے ہوئے تھے اور میں پاؤں دبار ہا تھا کہ حجرہ کی کھڑکی پر لالہ شرمیت یا شاید ملا وامل نے دستک دی ہمیں اٹھ کر کھڑ کی کھولنے لگا مگر حضرت صاحب نے بڑی جلدی اٹھ کر تیزی سے جا کر مجھ سے پہلے زنجیر کھول دی اور پھر اپنی جگہ بیٹھ گئے اور فرمایا : آپ ہمارے مہمان ہیں اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ مہمان کا اکرام کرنا چاہئے۔(سیرت حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 160 - مؤلفہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی) یہ واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عاجزی کی بھی ایک اعلیٰ مثال ہے۔مہمان کے احترام کی بھی ایک اعلیٰ مثال ہے۔بظاہر ایک چھوٹی سی بات ہے لیکن آقا نے اپنے غلام کی جو عزت افزائی کی ہے اور صرف اس لئے کہ آنحضرت ﷺ کا فرمان اور اسوہ کی پیروی کرنی ہے تو یہ ایک سچا عاشق ہی کر سکتا ہے۔اور یہی سچے عاشق آپ اپنی جماعت میں پیدا کرنا چاہتے تھے آج الزام لگایا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نعوذ باللہ اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ سے بالا سمجھتے ہیں۔