خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 288
288 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 18 جولائی 2008 ایک مرتبہ بیگووال ریاست کپورتھلہ کا ایک سا ہو کا ر اپنے کسی عزیز کے علاج کے لئے آیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اطلاع ہوئی۔آپ نے فورا اس کے لئے نہایت اعلی پیمانہ پر قیام وطعام کا انتظام فرمایا اور نہایت شفقت اور محبت کے ساتھ ان کی بیماری کے متعلق دریافت کرتے رہے اور حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خاص طور پر تاکید فرمائی۔اسی سلسلہ میں آپ نے یہ بھی ذکر کیا کہ سکھوں کے زمانہ میں ہمارے بزرگوں کو ایک مرتبہ بیگوال جانا پڑا تھا اس گاؤں کے ہم پر حقوق ہیں اس کے بعد بھی اگر وہاں سے کوئی آ جاتا تو آپ ان کے ساتھ خصوصاً بہت محبت کا برتاؤ فرماتے تھے۔یہاں پھر ہمیں اس اسوہ پر عمل ہوتا نظر آتا ہے جو آپ کے آقا و مطاع حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا اسوہ ہے کہ نجاشی کا جو وفد آیا تھا تو آپ نے اس کی خدمت اس لئے کی تھی کہ انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ نیک سلوک کیا تھا۔حضرت میر حامد علی شاہ صاحب سیالکوٹی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک واقعہ اپنی ذات کے متعلق تحریر فرماتے ہیں کہ ابتدائی زمانے کا واقعہ ہے اور ایک دفعہ کا ذکر ہے ( یہ لمبا واقعہ ہے ) کہ اس عاجز نے حضور مرحوم و مغفور کی خدمت میں قادیان میں کچھ عرصہ قیام کے بعد رخصت حاصل کرنے کے واسطے عرض کیا۔حضور اندر تشریف رکھتے تھے چونکہ آپ کی رافت اور رحمت بے پایاں نے خادموں کو اندر بھجوانے کا موقع دے رکھا تھا اس واسطے اس عاجز نے اجازت طلبی کے واسطے پیغام بھجوایا۔حضور نے فرمایا کہ وہ ٹھہریں ہم ابھی باہر آتے ہیں۔یہ سن کر میں بیرونی میدان میں گول کمرے کے ساتھ کی مشرقی گلی کے سامنے کھڑا ہو گیا اور باقی احباب بھی یہ سن کر کہ حضور باہر تشریف لاتے ہیں پروانوں کی طرح ادھر ادھر سے شمع انوار الہی پر جمع ہونے کے لئے آگئے۔یہاں تک کہ حضرت سید نا ومولانا نورالدین صاحب بھی تشریف لے آئے اور احباب کی جماعت اکٹھی ہوئی۔ہم سب کچھ دیر انتظار میں خم بر سر راہ رہے کہ حضور اندر سے برآمد ہوئے۔خلاف معمول کیا دیکھتا ہوں کہ حضور کے ہاتھوں میں دودھ کا بھرا ہوا لوٹا ہے اور گلاس شاید حضرت میاں صاحب کے ہاتھ میں ہے اور مصری رومال میں ہے۔( یعنی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ اسیح الثانی آپ کے ساتھ تھے۔چھوٹے بچے تھے۔” اور مصری رومال میں ہے ( چینی رومال میں تھی )۔" حضور گول کمرے کی مشرقی گلی سے برآمد ہوتے ہی فرماتے ہیں کہ شاہ صاحب کہاں ہیں۔میں سامنے حاضر تھا فی الفور آگے بڑھا اور عرض کیا حضور حاضر ہوں۔حضوڑ کھڑے ہو گئے اور مجھ کو فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔میں اسی وقت زمین پر بیٹھ گیا۔اب یہ بھی بتایا کہ کھانے یا پینے کے وقت بیٹھ کر پینا چاہئے۔یا آرام سے کھانا چاہئے۔” پھر حضور نے گلاس میں دودھ ڈالا اور مصری ملائی گئی۔مجھے اس وقت یہ یاد نہیں رہا کہ حضرت محمود نے میرے ہاتھ میں گلاس دودھ بھرا دیا یاخود حضور نے۔شیخ یعقوب علی عرفانی بھی وہاں موجود تھے جو لکھنے والے ہیں وہ یہ لکھتے ہیں ، کہتے ہیں کہ میری آنکھیں اب