خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 286
خطبات مسرور جلد ششم 286 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 جولائی 2008 ممکن ہے کہ اُسے خیال نہ رہتا ہو، اس لئے کوئی دوسرا شخص یا د دلا دیا کرئے“۔اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے کافی وسیع نظام ہے، کارکنان میں مستقل بھی اور عارضی بھی ، تو اس لحاظ سے تو کوئی کمی نہیں ہونی چاہئے۔پھر فرمایا کہ کسی کے میلے کپڑے وغیرہ دیکھ کر اس کی تواضع سے دستکش نہ ہونا چاہئے۔کیونکہ مہمان تو سب یکساں ہی ہوتے ہیں اور جو نئے واقف آدمی ہیں تو یہ ہمارا حق ہے کہ ان کی ہر ایک ضرورت کو مد نظر رکھیں۔بعض وقت کسی کو بیت الخلا کا ہی پتہ نہیں ہوتا تو اسے سخت تکلیف ہوتی ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ مہمانوں کی ضروریات کا بڑا خیال رکھا جاوے۔میں تو اکثر بیمار رہتا ہوں ( یہ آخری عمر کی آپ کی ہدایت تھی ) اس لئے معذور ہوں۔مگر جن لوگوں کو ایسے کاموں کے لئے قائمقام کیا ہے یہ ان کا فرض ہے کہ کسی قسم کی شکایت نہ ہونے دیں۔کیونکہ لوگ صد ہا اور ہزار ہا کوس کا سفر طے کر کے صدق اور اخلاص کے ساتھ تحقیق حق کے واسطے آتے ہیں پھر اگر ان کو یہاں تکلیف ہوتو ممکن ہے کہ رنج پہنچے اور رنج پہنچنے سے اعتراض بھی پیدا ہوتے ہیں۔اس طرح سے ابتلا کا موجب ہوتا ہے اور پھر گناہ میزبان کے ذمہ ہوتا ہے“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 170 جدید ایڈیشن جدید ایڈیشن) پس جیسا کہ میں نے کہا تھا۔اس دفعہ بھی لوگ مختلف قومیتوں کے یہاں آ رہے ہیں اور زیادہ تعداد میں آ رہے ہیں اور کئی ہیں جو پہلی دفعہ آ رہے ہیں۔پھر بعض مہمان ہیں ان کی بھی افریقہ اور دوسرے ملکوں سے بڑی تعداد آ رہی ہے جو احمدی نہیں ہیں، ان سب کی مہمان نوازی اور ان کے جذبات کا خیال رکھنا ہر کارکن کا فرض ہے۔اللہ کے فضل سے ہمیشہ غیر یہاں کے انتظام سے متاثر ہوتا ہے جب بھی یہاں گزشتہ سالوں میں انتظام ہوتے ہیں۔جو بھی غیر آتے ہمیشہ متاثر ہو کر گئے۔اس دفعہ زیادہ فکر اس لئے ہے کہ تعداد بھی زیادہ ہوگی اور یہی خیال ہے، لیکن اس تعداد کی وجہ سے کسی قسم کے انتظام میں فرق نہیں پڑنا چاہئے۔پھر ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں مہمانوں کا انتظام اور مہمان نوازی کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ میرا ہمیشہ خیال رہتا ہے کہ کسی مہمان کو تکلیف نہ ہو بلکہ اس کے لئے ہمیشہ تاکید کرتا رہتا ہوں کہ جہاں تک ہو سکے مہمانوں کو آرام دیا جاوے۔مہمان کا دل مثل آئینہ کے نازک ہوتا ہے۔شیشے کی طرح نازک ہوتا ہے اور ذراسی ٹھیس لگنے سے ٹوٹ جاتا ہے۔اس سے پیشتر میں نے یہ انتظام کیا ہوا تھا کہ میں خود بھی مہمانوں کے ساتھ کھانا کھاتا تھا۔مگر جب سے بیماری نے ترقی کی اور پر ہیزی کھانا کھانا پڑا تو پھر وہ التزام نہ رہا۔ساتھ ہی مہمانوں کی کثرت اس قدر ہو گئی کہ جگہ کافی نہ ہوتی تھی۔اس لئے مجبوری علیحدگی ہوئی۔ہماری طرف سے ہر ایک کو اجازت ہے کہ اپنی تکلیف کو پیش کر دیا کرے۔بعض لوگ بیمار ہوتے ہیں ان کے واسطے الگ کھانے کا انتظام ہوسکتا ہے“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 292۔جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ )