خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 263
خطبات مسرور جلد ششم 263 خطبہ جمعہ فرمودہ 4 جولائی 2008 نیچے بسنے والی مخلوق میں سے بدترین مخلوق ہوں گے ان میں سے ہی فتنے اٹھیں گے اور ان میں ہی لوٹ جائیں گئے“۔یعنی تمام خرابیوں کا وہی سر چشمہ ہوں گے۔( شعب الایمان لل متقی الا من عشر من شعب الایمان باب فی نشر العلم والا منعه احله اصله حدیث نمبر 1763 مكتبة الرشد، ریاض 2004ء) پس آج ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ ہمیں زمانے کے امام کو ماننے کی توفیق ملی۔پس ہماری یہ کوشش ہونی چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آکر ہمیشہ اپنی حالتوں کے جائزے لیتے رہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حقوق کے ساتھ اس کی مخلوق کے حقوق بھی ادا کرنے والے ہوں۔زمانے کے امام سے سچا تعلق قائم کرنے والے بھی ہوں۔صرف خوبصورت مسجد ہی ہمارے کام نہیں آئے گی ، خوبصورت مسجد بنا دینا ہی کافی نہیں ہے۔اس کے اندر لگے ہوئے قیمتی فانوس جو ہیں یہ ہمارے کسی کام نہیں آئیں گے۔بلند و بالا مسجد جو دور سے نظر آتی ہے ہمارے کسی کام نہیں آئے گی۔آنحضرت ﷺ نے یہ پیشگوئی فرمائی تھی کہ ایک زمانے میں بلند و بالا مساجد تعمیر ہوں گی لیکن ہدایت سے خالی، حقوق اللہ اور حقوق العباد سے بے بہرہ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب فرمایا کہ مسلمان پیدا کرنے کے لئے مسجدیں بناؤ تو ساتھ ہی آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ضروری نہیں کہ مسجد مرضع اور پکی عمارت کی ہو۔خدا تعالیٰ تکلفات کو پسند نہیں کرتا۔مسجد نبوی جو تھی ایک لمبے عرصے تک کچھی مسجد ہی رہی تھی لیکن تقوی پر اس کی بنیادیں تھیں۔جس کی خدا نے بھی گواہی دی۔افریقہ میں ہماری جماعتیں قائم ہوئی ہیں اکثر جگہ غریبانہ ہی مسجد ہم بناتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہی مسجد میں وہاں مضبوط جماعت کے قیام کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔حالات کے مطابق اور اس لئے کہ غیروں کی توجہ کھینچی جائے بڑی بڑی مساجد بھی جماعت بناتی ہے اور یہ مسجد بھی آپ نے یقیناً اس سوچ سے بنائی ہے اور جیسا کہ میں نے کہا بہت سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بننا شروع ہوگئی ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ مزید بنے گی۔لیکن یہ کبھی نہ بھولیں کہ اس کی تعمیر کے بعد ایک اور بہت اہم کام کے ذمہ دار ہم بنا دیئے گئے ہیں اور وہ ہے اس کی آبادی۔اور ایسے پاک لوگوں سے آبادی جن کا دل اللہ تعالیٰ کے تقویٰ سے بھرا ہوا ہو۔جو خوف خدا رکھتے ہوں اور اس خوف کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے آگے جھکنے والے اور اس کی عبادت کرنے والے ہوں۔اور عبادت کے ساتھ حقوق العباد اور نظام جماعت کی اطاعت کا بھی حق ادا کرنے والے ہوں۔کیونکہ ہماری مساجد کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے اُس گھر کی طرز پر اور ان مقاصد کے حصول کے لئے رکھی جاتی ہے جس کی بنیا دیں جب حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل نے دوبارہ دعائیں مانگتے ہوئے اٹھائی تھیں تو ان کے بہت بڑے بڑے مقاصد تھے۔جو گھر لوگوں کے بار بار جمع ہونے کی اور امن کی جگہ بنایا گیا تھا اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم فرمایا ہے کہ تم بھی اس مقصد کے لئے مسجد میں بناؤ جو مقصد حضرت ابراہیم کا تھا تبھی یہ مسجد ان مسجدوں میں شمار ہوگی جو اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے اور تقویٰ سے بنائی جاتی ہیں۔