خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 264
264 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 4 جولائی 2008 اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا، وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّى وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِيْمَ وَإِسْمَعِيْلَ أَنْ طَهَرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ ( البقره : 126) یعنی ہم نے اپنے گھر کولوگوں کے بار بار اکٹھا ہونے کی اور امن کی جگہ بنایا اور ابراہیم کے مقام میں سے نماز کی جگہ پکڑو اور ہم نے ابراہیم اور اسمعیل کو تاکید کی کہ تم دونوں میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف بیٹھنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لئے خوب پاک صاف بنائے رکھو۔پس یہ مسجد جو آج ہم نے بڑی قربانی کر کے بنائی ہے اس کو ایک خوبصورت عمارت کے طور پر بنا کر چھوڑ دینا ہمارا کام نہیں۔بلکہ اس کی خوبصورتی اس وقت مزید بڑھے گی جب ہم بار بار یہاں آئیں گے۔پانچ وقت نمازوں کی طرف توجہ پیدا ہو گی۔ہم پانچ وقت کی نمازوں کے لئے یہاں حاضر نہیں ہوتے تو بار بار آنے کا مقصد پورا نہیں کر رہے ہوں گے۔اور پھر ہم آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق ایک نماز سے اگلی نماز اور ایک جمعہ سے اگلے جمعہ، جو انسان کو بڑے گناہوں سے بچاتا ہے۔(المستدرك على الصحيحين کتاب العلم حدیث نمبر 412 مکتبہ نزار مصطفی الباز سعودیہ۔الطبعۃ الاولی 2000ء) اس بات کی ضمانت سے بھی محروم ہور ہے ہوں گے کہ ان گناہوں سے بچیں گے۔پس اگر برائیوں سے بچنے کی ضمانت حاصل کرنی ہے تو خالص ہو کر واحد و یگانہ خدا کی عبادت کے لئے بار بار اس مسجد میں آنا بھی ضروری ہے اور یہی اس مسجد کی اصل خوبصورتی اور زینت ہے۔اس میں آپ کے امن کی بھی ضمانت ہے اور علاقے کے امن کی بھی ضمانت ہے۔نیک اور عبادت گزار لوگوں کی خاطر اللہ تعالیٰ دوسروں کو بھی آفات سے بچا لیتا ہے۔پھر مسجد میں آنے والے جب خالص ہو کر خدا تعالیٰ کی عبادت کریں گے تو اللہ تعالیٰ کے، مخلوق کے حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ پیدا ہوگی اور یہ بھی معاشرے کے امن کا باعث بنے گی۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِيْمَ مُصَلَّى یعنی جس مقام پر حضرت ابراہیم کھڑے تھے تم بھی اس مقام پر کھڑے ہونے کی کوشش کرو اور وہ مقام تقویٰ کا تھا۔ظاہری پتھر یا جگہ کی نشاندہی کی جاتی ہے اصل چیز جو ہے ، جو مقام ہے وہ تقویٰ ہے۔اور انسان جب اس مقام پر کھڑا ہوتا ہے تو خدا کی حقیقی پہچان اسے ہوتی ہے۔پھر وہ خدا تعالیٰ کی عبادت میں بڑھنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے دین کی خاطر قربانیاں دینے کی کوشش کرتا ہے۔پس یہ مقام ابراہیم صرف رکی اور ظاہری جگہ نہیں بلکہ ان عبادتوں اور قربانیوں کے تسلسل کا نام ہے جو حضرت ابراہیم نے خدا تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے کے لئے کیں۔اگر ہم یہ مقام حاصل کرنے کی کوشش کریں گے ، ان دعاؤں کی طرف بھی توجہ کریں گے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیں تو اپنی نسلوں کے نیکیوں پر قائم ہونے کے سامان کر رہے ہوں گے۔اور اللہ تعالیٰ کے انعاموں سے نہ صرف خود حصہ لے رہے ہوں گے بلکہ اپنی اولادوں کو بھی اس انعام