خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 262
خطبات مسرور جلد ششم 262 خطبہ جمعہ فرمودہ 4 جولائی 2008 الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جماعت کی ترقی کی بنیاد ڈالی جائے۔مسلمانوں کی توجہ بھی ہوگی اور غیر مسلموں کی توجہ بھی ہوگی۔پس اللہ کرے کہ یہ مسجد جو آپ نے محض اللہ بنائی ہے جس میں یقیناً نفسانی اغراض اور شر کو دخل نہیں ہے اور ہو بھی نہیں سکتا۔ہم تو اس مسیح محمدی کے ماننے والے ہیں آنحضرت ﷺ کے اس عاشق صادق کے ماننے والے ہیں جو اس زمانے میں بندے کو خدا کے قریب کرنے آیا ہے۔جو بندے کو بندے کے حقوق بتانے آیا ہے۔جو ہر قسم کے شر کو دور کرنے آیا ہے۔جو اپنے ماننے والوں کو تقویٰ کی باریک راہوں پر چلانے آیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: یقینا سمجھوکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ لوگ پیارے نہیں جن کی پوشاکیں عمدہ ہوں اور وہ بڑے دولتمند اور خوش خور ہوں بلکہ خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ پیارے ہیں جو دین کو دنیا پر مقدم کر لیتے ہیں اور خالص خدا ہی کے لئے ہو جاتے ہیں۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 596۔جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس خالص خدا کے ہونے والے مسجد کا بھی حق ادا کرتے ہیں اور آپ کی بیعت کا بھی حق ادا کرتے ہیں۔مسجد کا حق کس طرح ادا ہوتا ہے؟ یہ حق جیسا کہ آپ نے فرمایا اُس وقت ادا ہو گا جب سب مل کر مسجد میں باجماعت نماز ادا کریں گے اور اس باجماعت نماز سے غرض علاوہ خدا تعالیٰ کی عبادت کے یہ ہے کہ اتفاق اور اتحاد کوترقی ہو اور ادنی ادی باتوں کو نظر انداز کیا جائے۔صرف مسجدیں بنانا کام نہیں، بلکہ یہ مسجد میں اس وقت کارآمد ہوں گی جب ان میں خدا کے حقوق بھی ادا ہور ہے ہوں اور خدا کی مخلوق کے حقوق بھی ادا ہور ہے ہوں۔ورنہ ایسی مساجد جو یہ حق ادا نہیں کر رہیں ان کو خدا تعالیٰ نے مسجد ضرار کے نام سے موسوم کیا ہے۔جو مومنوں کے دل جوڑنے کی بجائے ، جو ایک دوسرے کے حقوق کی طرف توجہ کرنے کی بجائے یا کروانے کی بجائے ، مومنوں میں پھوٹ ڈالنے کا ذریعہ بن رہی ہیں۔آج دیکھ لیں اُن لوگوں کی مساجد یہی کردار ادا کر رہی ہیں جنہوں نے زمانے کے امام کو نہیں مانا۔ایک دوسرے پر کفر کے فتوے اور اگر کسی جگہ پر کہیں کسی میں آپس میں اتفاق ہے بھی تو جماعت احمدیہ کے خلاف کفر کے فتوے دینے پر اتفاق ہے۔نفرتوں کے لاوے ابل رہے ہیں ان لوگوں کے دلوں میں سے کئی غیر از جماعت بھی بعض دفعہ اس بات کا برملا اظہار کر جاتے ہیں کہ جو امن اور پیار کے درس تمہاری مساجد سے دیئے جاتے ہیں اس سے ہماری مساجد خالی ہیں۔اور کیوں نہ ہوں ؟ یہ اس نبی صادق کی پیشگوئی ہے جس نے آج سے چودہ سو سال پہلے یہ اعلان خدا سے خبر پا کر کیا تھا کہ میرے مسیح اور مہدی کے ظہور سے پہلے اور اس زمانے میں مساجد کا یہی حال ہوگا جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ نام کے سوا اسلام کا کچھ باقی نہیں رہے گا اور الفاظ کے سوا قر آن کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔اس زمانے کے لوگوں کی مسجد میں بظاہر تو آبا نظر آئیں گی لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی۔ان کے علماء آسمان کے