خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 236 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 236

236 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرموده 13 جون 2008 اس ارشاد پر بھی نظر ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو میرے راستے میں خرچ کرے گا میں اسے بڑھا کر دوں گا تو ایک مومن یہی کوشش کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں زیادہ سے زیادہ دے تاکہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا زیادہ وارث بنے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں کئی ایسے لوگ ہیں جو اپنے اوپر تنگی بھی کر لیتے ہیں لیکن چندوں میں کمی نہیں آنے دیتے۔پس یہ چندہ بھی ہر ایک کی اپنی ایمانی حالت اور اللہ کے تو کل پر منحصر ہے۔وہ یہ جانتے ہیں کہ اس طرح اللہ تعالیٰ ان کے رزق میں برکت بھی ڈالے گا اور اپنی رضا کی جنت کا وارث بھی بنائے گا۔آنحضرت ﷺ کی ایک دعا ہے جو آپ کیا کرتے تھے۔اس زمانے میں تو خاص طور پر یہ دعا بہت اہم ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت ام سلمی بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب صبح کی نماز ادا کرتے تو سلام پھیر نے کے بعد یہ دعا کرتے کہ اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا طَيِّبَاً وَّعَمَلًا مُتَقَبَّلًا - (سنن ابن ماجہ کتاب اقامة الصلوة باب ما يقال بعد التسليم حديث 925) کہ اے اللہ ! میں تجھ سے ایسا علم جو نفع رساں ہو اور ایسا رزق جو طیب ہو اور ایسے عمل جو قبولیت کے لائق ہوں مانگتا ہوں۔پس یہ دعا ہے اس کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے۔گزشتہ خطبہ میں میں نے بتایا تھا کہ رزق حصہ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور حصہ ، بُرا بھی ہو سکتا ہے اور اچھا بھی ہو سکتا ہے۔تو اس حوالے سے بھی میں اس وقت کچھ بیان کروں گا۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَتَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِبُونَ (الواقعة : 83) اور تم اپنے رزق بناتے ہو اس بنا پر کہ تم جھٹلاتے ہو۔یہ سورۃ واقعہ کی آیت ہے اور یہ وہ سورۃ ہے جس میں دور اول اور دور آخر کے خوش نصیبوں کا بھی ذکر ہے اور دور اول اور دور آخر کے بدنصیبوں کا بھی ذکر ہے۔اس آیت میں جو میں نے پڑھی ہے اس میں ان بدنصیبوں کا ذکر ہے جو جھٹلانے کی وجہ سے اپنا رزق بناتے ہیں۔ان کی حالت اس قدر گر گئی ہے کہ خدا تعالیٰ کا خوف ان میں نہیں رہا بلکہ دنیا کا خوف ہے۔یہ لوگ شیطان کی گود میں جابیٹھے ہیں۔کچھ لوگ تو اپنے دنیاوی رزق کے بند ہونے کے خوف سے سچ کو قبول کرنے سے انکاری ہیں اور کچھ لوگ جو اپنے آپ کو عالم سمجھتے ہیں جن کو مسجدوں کے منبر ملے ہوئے ہیں اس لئے حق کو قبول نہیں کرنا چاہتے کہ ان منبروں کی وجہ سے جو عوام الناس کو وہ لوٹ رہے ہیں اس سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔تو خلاصہ یہ کہ یہ سیاستدان بھی اور مُلاں بھی اپنی اس غلیظ کمائی کی وجہ سے اس روحانی مائدے سے اپنے آپ کو محروم رکھے ہوئے ہیں جو خدا تعالیٰ نے اس زمانے میں بھیجا ہے اور کیونکہ اپنی حرکتوں کی وجہ سے وہ دنیا کے کیڑے بن چکے ہیں اس لئے اُن کے نصیب میں حق کو پہچانا نہیں ہے۔اُن کا کام حق کو جھٹلانا ہی ہے یہاں تک کہ ان کا آخری وقت آ جائے اور پھر ان کا معاملہ خدا کے ساتھ ہو۔آج ہم دیکھتے ہیں کہ جن ملکوں میں احمدیت کی مخالفت ہے سیاستدان اور ملاں اکٹھے ہیں اور اکٹھے ہو کر