خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 237
237 خطبه جمعه فرموده 13 جون 2008 خطبات مسرور جلد ششم احمدیت کے خلاف کھڑے ہیں۔خلافت کے سو سال پورے ہونے نے ان کے اندرحسد کی اور بغض کی آگ کو اور بھی بھڑ کا دیا ہے کہ یہ جو ہمارا جھوٹا رزق ہے یہ نہ کہیں چھن جائے۔سیاستدان یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے مولوی کی بات نہ مانی اور احمدیوں کی مخالفت نہ کی تو ہمارے ووٹ کم ہو جائیں گے۔کیونکہ سیاستدان کو تو مذہب سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ان کو تو اپنی سیاست اور کرسی سے دلچسپی ہے۔ان کو تو اس سے غرض نہیں کہ ملک کی خدمت کرنی ہے۔غرض ہے تو صرف یہ کہ اگر مخالفت نہ کی تو اپنی کرسی سے اور لوٹ مار سے جو ملک کا پیسہ کھا رہے ہوتے ہیں اس سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔وہ رزق جو غیر طیب اور نا پاک رزق ہے جس کی بنیاد جھوٹ پر ہے وہ ان کے ہاتھ سے چھن جائے گا اور مولوی تو جیسا کہ میں نے کہا صرف اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ اس کے رزق کے ذرائع بند ہو جائیں گے۔مدرسوں کے نام پر، جامعات کے نام پر جولوگوں کو بے وقوف بنا کر ان سے پیسے لیتے ہیں یا بعض حکومتوں سے رقم لیتے ہیں، یہ بند ہو جائے گی۔پس یہ لوگ ہیں جو جھوٹ بول کر رزق کمانے والے ہیں یا جن کا رزق جھٹلانے پر منحصر ہے۔یعنی ان کے حصے میں جس پہلو سے بھی دیکھ لیں جھوٹ کی وجہ سے رزق ہے اور یہی بُرا رزق ہے اور یہ رزق ان کو صداقت کا نہ صرف انکار کرنے کی وجہ سے بلکہ مخالفت میں حد سے زیادہ بڑھ جانے کی وجہ سے مل رہا ہے۔یہ رزق جو وہ کماتے ہیں اس مخالفت کی وجہ سے ، صداقت کے انکار کی وجہ سے ہے، جھوٹ بولنے کی وجہ سے ہے۔اللہ فرماتا ہے کہ پھر اللہ بھی گرم پانی کے ساتھ ان کی دعوت کرے گا اور پھر فرماتا ہے تَصْلِيَةُ جَحِيْم ( الواقعۃ : 95) یعنی ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔پس آج جو احمدیوں کے خلاف پاکستان میں بھی مخالفت کا بازار گرم ہے اور انڈونیشیا سے بھی خبریں آرہی ہیں، دونوں جگہ ملاں اور سیاستدانوں کے جوڑ کی وجہ سے یہ مخالفت ہے۔عوام الناس کو بیوقوف بنایا جاتا ہے کہ تمہاری دینی غیرت کا سوال ہے اٹھو اور احمدیوں کو ختم کر دو۔حالانکہ یہ تکذیب اس لئے ہے کہ ان لوگوں کو یہ خوف ہے کہ ہمارے رزق بند نہ ہو جائیں۔ہم جو لوٹ مار کر رہے ہیں وہ بند نہ ہو جائے۔پس احمدیوں کو میں کہنا چاہتا ہوں کہ وہ صبر اور حو صلے سے اور دعا سے کام لیں۔اللہ تعالیٰ کے مسیح کو مانا ہے تو یقیناً اس پیغام کے ماننے کی وجہ سے آپ اللہ کے مقرب ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے مقربین کے لئے نعمتوں سے پُر جنتوں کی بشارت دیتا ہے۔گزشتہ 120 سال سے انہوں نے اپنی ہر طرح کی مخالفت کر کے دیکھ لی ہے۔بے شک ہمیں عارضی تکلیفیں تو برداشت کرنی پڑیں لیکن ان کی خواہشات کبھی پوری نہیں ہوئیں کہ جماعت کو ختم کر دیں۔ایک آمر نے اعلان کیا کہ میں ان کے ہاتھ میں کشکول پکڑاؤں گا تو خود اس کا جو انجام ہوا وہ ظاہر وباہر ہے۔لیکن جماعت احمد یہ انفرادی طور پر بھی اور جماعتی طور پر بھی مالی وسعت اختیار کرتی چلی گئی۔دوسرے نے جب جماعت کو کچلنا چاہا، ہر لحاظ سے معذور کرنا چاہا تو اس کا انجام بھی ہم نے دیکھ لیا۔اور جماعت کے لئے ترقی کی نئی سے نئی راہیں کھلتی چلی گئیں۔اس رازق