خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 235
235 خطبه جمعه فرموده 13 جون 2008 خطبات مسرور جلد ششم مطلب یہ ہے کہ تم نے پاکیزہ کمائی ہی کرنی ہے اور پھر اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔جو مال غلط بیانی سے کمایا ہو وہ پاکیزہ کس طرح ہو سکتا ہے۔پس اگر کوئی کسی غلط فہمی کی وجہ سے یہ غلط مفاد اٹھا رہا ہے تو اسے بھی باز آنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ کو پاک کمائی میں سے مال دیں اور پھر اللہ تعالیٰ اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ یہ روپیہ برکت والا ہو گا اور دینے والے کے مال میں اضافے کا باعث بنے گا۔ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ سات سو گنا یا اس سے بھی زیادہ اللہ تعالیٰ بڑھا سکتا ہے۔لیکن مال ہمیشہ پاک ہونا چاہئے۔پس ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ جب اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرة:4) یعنی اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ تو نا جائز طریقوں سے نہیں دیتا۔اللہ تعالیٰ تو پاک مال اور جائز طریقوں سے مال دیتا ہے۔پس مومن کی یہ نشانی بتائی کہ ان کا رزق بھی پاک ہوتا ہے اور پھر وہ اس پاک رزق میں سے خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ بھی کرتے ہیں۔کمائی تو چور بھی کرتے ہیں ، ڈاکو بھی کرتے ہیں، ذخیرہ اندوز بھی کرتے ہیں، رشوت خور بھی کمائی کرتے ہیں اور اس طرح مختلف ناجائز ذرائع سے کمانے والے بھی کمائیاں کرتے ہیں تو کیا وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ مال ہمیں اللہ تعالیٰ نے دیا ہے؟ اللہ تعالیٰ جو بندوں کو حکم دیتا ہے کہ عدل وانصاف کے تقاضے پورے کرو، کیا وہ دوسرے کے حق کو مارنے والے کی کمائی کو جائز قرار دے سکتا ہے؟ کبھی نہیں ہوسکتا۔گو کہ پاکستان میں یا اور بعض ملکوں میں ناجائز ذرائع سے دولت کما کر کہتے ہیں کہ یہ اللہ نے دیا ہے۔تو یہ گندہ مال خدا کا نہیں ہوسکتا۔یہ تو شیطان کے ذریعہ سے کمایا ہوا مال ہے اور یہ پاکستان میں جو بڑے بڑے تاجر بنے پھرتے ہیں یا پیسے والے، ایسا مال کما کے پھر ڈھٹائی سے یہ بھی کہتے ہیں ، ان کا تو یہ حال ہے کہ اپنے گھروں پر بھی لکھ کے لگا دیتے ہیں کہ هذا من فضل ربی۔یعنی غلط طریقے سے مال بھی کماتے ہیں اس کو اللہ کا فضل بھی قرار دیتے ہیں (انا للہ )۔سیاستدان ہیں تو وہ قوم کا مال لوٹ رہے ہیں۔غلط طریقے سے کمایا ہوا مال چاہے چھوٹے پیمانے پر ہو یا بڑے پیمانے پر ہو طیب مال نہیں ہوتا اور جو طیب مال نہیں وہ اللہ تعالیٰ کا مال نہیں اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کو قابل قبول ہے۔پس ہر احمدی کو یہ خیال رکھنا چاہئے کہ اس کا مال پاک ہو اور اگر وہ اپنے مال میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرے تو دیکھے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اس میں برکت ڈالتا ہے۔یہاں ایک بات کی اور وضاحت کر دوں۔بعض لوگ لکھتے ہیں کہ ہم نے اپنے بجٹ اپنی متوقع آمد کے پیش نظر لکھوائے تھے لیکن کا روبار میں بعض مشکلات کی وجہ سے اتنی آمد نہیں ہوئی یا بعض کو ملازمت میں وقتیں ہیں تو ایسے لوگ اپنے جائزے لے کر خود تقویٰ کو مد نظر رکھ کر اپنے بجٹ پر نظر ثانی کر سکتے ہیں۔لیکن شرط تقویٰ ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت دی ہے۔جیسا کہ فرمایا ہے وَيَسْتَلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ (البقرة:216) یعنی وہ تجھ سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں؟ ان کو کہہ دے کہ جتنا تکلیف میں نہ ڈالے۔پس اگر دل میں تقویٰ ہے اور اللہ تعالیٰ کے