خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 234
خطبات مسرور جلد ششم 234 خطبه جمعه فرموده 13 جون 2008 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”ہمیشہ دیکھنا چاہئے کہ ہم نے تقویٰ اور طہارت میں کہاں تک ترقی کی ہے۔اس کا معیار قرآن ہے۔اللہ تعالیٰ نے متقی کے نشانوں میں سے ایک یہ بھی نشان رکھا ہے کہ اللہ تعالییٰ متقی کو مکروہات دنیا سے آزاد کر کے اس کے کاموں کا خود متکفل ہو جاتا ہے“۔پھر فرمایا اللہ تعالیٰ متقی کو نابکار ضرورتوں کا محتاج نہیں کرتا۔یعنی بے کار اور جھوٹی قسم کی ضرورتیں جو ہیں۔مثلاً ایک دکاندار یہ خیال کرتا ہے کہ دروغ گوئی کے سوا اس کا کام نہیں چل سکتا۔اس لئے دروغگو ئی سے باز نہیں آتا اور جھوٹ بولنے کے لئے وہ مجبوری ظاہر کرتا ہے۔لیکن یہ امر ہرگز سچ نہیں“۔یہ جو آج کل حکومت سے غلط بیانی کر کے مدد لیتے ہیں یا ٹیکس بچانا۔یہ بھی اس قسم کی مثال ہی ہے۔غلط بیانی کر کے یہ چیزیں لی جاتی ہیں۔اگر تھوڑی سی تنگی بھی ہو تو برداشت کرنی چاہئے کہ خدا کی رضا کے حصول کے لئے ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالی کمزور ہے۔وہ بڑی طاقت والی ذات ہے جب اس پر کسی امر میں بھی بھروسہ کرو گے وہ ضرور تمہاری مدد کرے گا“۔( تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام زیر سورۃ الطلاق آیت 3-4۔جلد چہارم صفحہ 400-401) اللہ ہمیں حقیقی بھروسہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں پر اتنا مہربان ہے کہ ان کو اس طرف توجہ دلاتارہتا ہے کہ یہ سب طریقے اختیار کرو تو تمہارا رزق پاک بھی رہے گا اور اس میں اضافہ بھی ہوتا رہے گا۔ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَا أَتَيْتُمْ مِنْ زَكوةٍ تُرِيْدُونَ وَجْهَ اللَّهِ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ (الروم : 40) اور جو تم اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے زکوۃ کے طور پر دیتے ہو تو یا درکھو اس قسم کے لوگ خدا کے ہاں روپیہ بڑھا رہے ہیں۔پس یہ ہے اپنے مال میں برکت ڈالنے کا ذریعہ کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو اور جتنی توفیق ہے اتنا خرچ کرو۔اس سے قناعت بھی پیدا ہوگی اور ترجیحات بھی بدلیں گی۔ذاتی خواہشات کی بجائے دینی ضروریات کی طرف توجہ پیدا ہوگی۔اگر کوئی یہ کہے کہ میں جس طرح بھی جو بھی کمائی کرتا ہوں ، چندہ بھی اس میں سے اسی حساب سے دیتا ہوں اس لئے کیا فرق پڑتا ہے۔اگر میں حکومت سے اپنی ہوشیاری کی وجہ سے کچھ لے بھی لوں تو چندہ بھی تو اس پر دے رہا ہوں ، اس لئے کوئی فرق نہیں پڑتا۔تو ایسا مال خدا تعالیٰ کو نہیں چاہئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر میری راہ میں خرچ کرنا ہے تو اس میں سے خرچ کرو جو پاک ہے۔فرما یا ايُّهَا الَّذِيْنَ امَنُوْا أَنْفِقُوْا مِنْ طَيِّبَتِ مَا كَسَبْتُمْ (البقرة: 268) اے مومنو! تم نے جو کچھ کمایا ہے اس میں سے پاکیزہ مال اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو بُرا، اچھا کمایا اس میں سے جو پاک ہے وہ خرچ کرو دوسرا نہ کرو۔