خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 233
233 خطبه جمعه فرموده 13 جون 2008 خطبات مسرور جلد ششم مرتکب ہوتے ہیں جو بذات خود شرک کے برابر ہے، تقویٰ تو دور کی بات ہے۔پس اگر ہم میں ایسے چند ایک بھی ہوں تو وہ نہ صرف اپنے آپ کو اللہ سے دُور کر رہے ہوتے ہیں بلکہ جماعت کو بھی بدنام کرنے والے بن رہے ہوتے ہیں اور جماعت کا جو وقار حکومتی اداروں اور لوگوں میں ہے اس کو کم کرنے والے بن رہے ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” جب انسان خدا پر سے بھروسہ چھوڑتا ہے تو دہریت کی رگ اس میں پیدا ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ پر بھروسہ اور ایمان اسی کا ہوتا ہے جو اسے ہر بات پر قادر جانتا ہے“۔پس ان معیاروں کو ہمیں حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتائے ہیں اور جن کی بار بار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں تلقین فرمائی ہے۔جو لوگ غلط معلومات دے کر چند پاؤ نڈ حکومت سے لے لیتے ہیں گویا وہ زبان حال سے یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ہمارا رازق خدا نہیں بلکہ ہماری چالاکیاں ہیں۔اس بات کی میں یہاں وضاحت کر دوں کہ حکومتی اداروں کو بعض ایسے لوگوں پر شک پڑنا شروع ہو گیا ہے اور یہ لوگ بڑی ہوشیاری سے اپنا دائرہ تنگ کرتے ہیں۔ابھی تک ان اداروں پر یہی تاثر ہے کہ احمدی دھوکہ نہیں کرتے۔کوئی ایک بھی اس قسم کا دھوکہ دہی میں ان کے ہاتھ لگ گیا تو اچھے بھلے شریف احمدی جو صرف اپنا حق لیتے ہیں وہ بھی پھر متاثر ہوں گے اور پھر جیسا کہ میں نے کہا کہ جماعت پر اعتماد علیحدہ ختم ہوگا۔میں نے تو امیر صاحب کو کہ دیا ہے کہ کسی بھی ایسے شخص کا اگر پتہ چلے تو اس سے چندہ لینا بند کر دیں۔ایسے لوگوں سے چندہ نہ لینے سے اول تو جماعتی چندوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا انشاء اللہ اور اگر پڑے بھی تو اس کا پھر کوئی فرق نہیں پڑتا۔کم از کم اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا ہوا مال تو پاک ہوگا۔پس میں ایسے لوگوں سے جو چاہے چند ایک ہوں ، یہی کہتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ کو رزاق نہیں سمجھنا تو پھر اللہ تعالیٰ کو بھی اپنے دین کے لئے آپ کے مال کی ضرورت نہیں ہے۔پھر آپ کا معاملہ اللہ سے ہے، جس طرح بھی چاہے اللہ سلوک کرے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا یقینا اللہ عزوجل نے تمہیں پیدا کیا ہے اور تمہیں رزق عطا کیا ہے۔پس تم اس کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہراؤ۔پس اگر اس حقیقت کو ہر ایک سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ نے رزق پہنچانا اپنے ذمہ لیا ہے جس کا گزشتہ خطبہ میں میں نے ذکر بھی کیا تھا تو حقیقی رنگ میں اس کی عبادت کی طرف توجہ رہے گی اور جب اس کی عبادت کی طرف توجہ رہے گی تو ہم حقیقی رنگ میں اس کے عبد بن کر رہیں گے اور پھر ہمارے اندر قناعت بھی پیدا ہوگی۔اور جب قناعت پیدا ہوگی تو دوسرے کے رزق کی طرف نظر بھی نہیں ہوگی اور جب دوسرے کے رزق کی طرف نظر نہیں ہوگی تو ناجائز ذریعہ سے پیسے جوڑنے کی کوشش بھی نہیں ہوگی۔تو یہ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو ہر قسم کے لالچ سے بچائے۔