خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 226 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 226

226 خطبه جمعه فرموده 6 جون 2008 خطبات مسرور جلد ششم تمہارا رب نہیں۔میں ہی تمہاری پرورش کرتا ہوں اور میں ہی تمہیں یہ مادی رزق بھی مہیا کرتا ہوں۔پس اس کے حاصل کرنے کے لئے میں جو معبود حقیقی ہوں میری پناہ میں آؤ اور اس کے صحیح فہم وادراک کے لئے میرے بھیجے ہوئے روحانی پانی سے فیض پانے والے روحانی رزق کو بھی حاصل کرنے کی کوشش کرو اور اس کو حاصل کرنے والے بنو۔یہی چیز تمہیں دنیا اور آخرت کی نعماء کا حقدار بنائے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ” جب انسان حد سے تجاوز کر کے اسباب ہی پر بھروسہ کرے اور سارا دارو مدار اسباب پر ہی جا ٹھہرے تو یہ وہ شرک ہے جو انسان کو اس کے اصل مقصد سے دور پھینک دیتا ہے۔مثلاً اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اگر فلاں سبب نہ ہوتا تو میں بھوکا مر جاتا۔یا اگر یہ جائیداد یا فلاں کام نہ ہوتا تو میرا برا حال ہو جاتا۔فلاں دوست نہ ہوتا تو تکلیف ہوتی۔یہ امور اس قسم کے ہیں کہ خدا تعالیٰ ان کو ہرگز پسند نہیں کرتا کہ جائیداد یا اور اور اسباب و احباب پر اس قدر بھروسہ کیا جاوے کہ خدا تعالیٰ سے بلکلی دور جا پڑے۔یہ خطر ناک شرک ہے جو قرآن شریف کی تعلیم کے صریح خلاف ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَ فِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوْعَدُونَ (الہ ریت : 23 ) اور فرمایا وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (الطلاق: 4 ) اور فرمایا مَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق: 3-4) اور فرمایا وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّلِحِيْنَ (الاعراف: 197)‘۔آپ فرماتے ہیں: ” قرآن شریف اس قسم کی آیتوں سے بھرا پڑا ہے کہ وہ متقیوں کا متولی اور متکفل ہوتا ہے۔تو پھر جب انسان اسباب پر تکیہ اور توکل کرتا ہے تو گویا خدا تعالیٰ کی ان صفات کا انکار کرنا ہے اور ان اسباب کو ان صفات سے حصہ دینا ہے اور ایک اور خدا اپنے لئے ان اسباب کا تجویز کرتا ہے۔چونکہ وہ ایک پہلو کی طرف جھکتا ہے۔اس سے شرک کی طرف گو یا قدم اٹھاتا ہے۔جو لوگ حکام کی طرف جھکے ہوئے ہیں اور ان سے انعام یا خطاب پاتے ہیں اُن کے دل میں اُن کی عظمت خدا کی سی عظمت داخل ہو جاتی ہے۔وہ ان کے پرستار ہو جاتے ہیں اور یہی ایک امر ہے جو تو حید کا استیصال کرتا ہے اور انسان کو اس کے اصل مرکز سے ہٹا کر دُور پھینک دیتا ہے۔پس انبیاء پھم السلام کی تعلیم دیتے ہیں کہ اسباب اور توحید میں تناقض نہ ہونے پاوے بلکہ ہر ایک اپنے اپنے مقام پر رہے اور مال کار توحید پر جاکھہرے۔وہ انسان کو یہ سکھانا چاہتے ہیں کہ ساری عزتیں ، سارے آرام اور حاجات براری کا متکفل خدا ہی ہے۔پس اگر اس کے مقابل میں کسی اور کو بھی قائم کیا جاوے تو صاف ظاہر ہے کہ دو ضد وں کے نقابل سے ایک ہلاک ہو جاتی ہے۔اس لئے مقدم ہے کہ خدا تعالیٰ کی توحید ہو۔رعایت اسباب کی جاوے۔اسباب کو خدا نہ بنایا جاوے۔اسی توحید سے ایک محبت خدا تعالیٰ سے پیدا ہوتی ہے جبکہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ نفع و نقصان اسی کے ہاتھ میں ہے۔یعنی خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔محسن حقیقی وہی ہے۔ذرہ ذرہ اسی سے ہے۔کوئی دوسرا درمیان نہیں آتا۔