خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 225
225 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 6 جون 2008 خدا تعالی کو یا در کھے۔مومن کا کام یہ نہیں کہ کسی بھی موقع پر کمزوری دکھائے۔اس خوف میں رہے کہ ان لوگوں کی جن سے میرا رزق وابستہ ہے اگر ہاں میں ہاں نہیں ملاؤں گا تو اپنی نوکری سے، اپنے رزق سے ہاتھ دھو بیٹھوں گا۔یا قومی سطح پر اگر لیں تو یہ خوف کسی مسلمان حکومت کو دامنگیر نہ ہو کہ ہماری تجارتیں کیونکہ اب فلاں ملک سے وابستہ ہیں یا ہمارے مختلف مفادات فلاں ملک سے وابستہ ہیں، اس لئے مسلمان، مسلمان حکومتوں کو دوسروں کی خاطر دھوکہ دیں جو آج کل ہو رہا ہے۔اللہ تعالیٰ بڑا واضح فرماتا ہے کہ دین کی غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ تو انفرادی طور پر اور نہ ہی ملکی سطح پر مومنین کو کسی دوسرے کے زیر اثر نہیں آنا چاہئے۔یہ خوف نہیں رکھنا کہ ہمارا رزق اُس جگہ سے یا اُس ملک سے وابستہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ، ایمان والوں کو ، مومنین کو ، غیرت رکھنے والوں کو رزق مہیا کرتا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ اپنی دوسری مخلوق کے لئے رزق مہیا کر سکتا ہے تو مومنوں کے لئے کیوں نہیں کرسکتا۔پس اللہ تعالیٰ جو زمین و آسمان کا مالک ہے، جس نے سورج اور چاند کو اپنی مخلوق کی خدمت پر لگایا ہوا ہے ، کیا اس میں اتنی طاقت نہیں کہ اپنے خالص بندوں کے لئے رزق کے سامان مہیا فرما سکے۔پس ہمیشہ اس بات کو یا درکھو کہ اللہ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُلَهُ (العنكبوت : 63) یعنی کہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔پس دنیاوی ذریعوں پر اپنے رزق کا انحصار نہ سمجھو۔رزق دینا اور روکنا اللہ تعالیٰ پر منحصر ہے۔جو انسان دنیاوی ذریعوں پر انحصار کرتا ہے اس کا حال تو آج کی دنیا دیکھ رہی ہے۔ان امیر ملکوں میں رہنے والوں میں بھی رزق کی تنگی کا شور مچنا شروع ہو گیا ہے۔اگر کوئی بھی بڑے سے بڑا اور امیر ملک ہی رزاق ہو تو پھر آج ان ملکوں میں رزق کی تنگی کی چیخ و پکار کیوں ہوگی۔پس ایک مومن کو چاہئے کہ ہمیشہ اس طرف نظر رکھے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کیا ہے۔اگر انسان اللہ تعالیٰ کی طرف خالص ہو کر توجہ دیتا ر ہے، اس کی عبادت کرتا رہے اور اس کے روحانی رزق سے فیضیاب ہونے کی کوشش کرتا رہے تو پھر ا سے کوئی فکر نہیں۔اللہ تعالیٰ مومنوں کی دنیاوی ضرورتیں بھی پوری کرتا رہتا ہے اور قناعت بھی پیدا کرتا ہے۔پس جو حقیقی رازق ہے اس کی طرف ہمیشہ ایک مومن بندے کی نظر رہنی چاہئے نہ کہ انسانوں کی طرف۔اس زمانے میں تو خاص طور پر خدا تعالیٰ کی صفات کا ادراک بندوں کو ہونا چاہئے کیونکہ یہ زمانہ جو مسیح موعود کا زمانہ ہے اس میں ہی حقیقی رب کی پناہ میں آنے کی دعا سکھائی گئی ہے۔حقیقی مالک کی پناہ میں آنے کی دعا سکھائی گئی ہے اور حقیقی معبود کی پناہ میں آنے کی دعا سکھائی گئی ہے۔کیونکہ وسیع رابطوں اور ایک دوسرے پر انحصار اور کم سے کم وقت میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جانے اور اپنے تمام تر ساز و سامان اور طاقتوں کے اظہار کے ساتھ پہنچنے کی وجہ سے غریب قو میں اور غریب لوگ امیر قوموں اور امیر لوگوں کو ہی اپنا سب کچھ سمجھتے ہیں۔یا سمجھنے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے اور مومن بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ میں رب ہوں۔کوئی دنیا کا انسان یا ملک