خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 163 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 163

163 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 اپریل 2008 خطبات مسرور جلد ششم دنیاوی چیزوں کے لئے نہیں بلکہ دین کی خاطر اس طرح درد سے کوشش ہو رہی ہو، بچیوں ،لڑکیوں عورتوں کے خلافت سے محبت کے اور معافی کے خطوط آتے رہے۔ایک بہن نے لکھا کہ اس کی غیر احمدی افغان واقف تھی۔اس نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ تمہارے خلیفہ تم سے ناراض ہیں اور پھر ساتھ ہی اس کو یہ بھی کہا کہ تم لوگ بڑی بُری عورتیں ہو۔کہتی ہیں کہ میں ابھی یہ سوچ ہی رہی تھی کہ کیا جواب دوں کہ خود ہی وہ غیر احمدی کہنے لگیں کہ شکر کرو تمہاری غلطیوں کی نشاندہی کرنے والا کوئی ہے، ہیچ کرنے والا کوئی ہے ، جو غلط کام پر سمجھا سکے۔ہم تو برائیوں میں پھنستے جارہے ہیں اور ہمیں پوچھنے والاکوئی نہیں۔تو بہر حال کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اس پابندی نے پورے جرمنی کی لجنہ ، ناصرات ، بچیوں میں ایک بے چینی کی لہر دوڑا دی تھی اور اس وجہ سے انہوں نے دعا ئیں بھی کیں اور اپنے اندر تبدیلیاں بھی پیدا کیں۔کچھ عرصہ ہوا اسی وجہ سے میرے پاس ان کی رپورٹیں آرہی تھیں۔میں نے امیر صاحب اور صدر لجنہ کو کہہ دیا تھا کہ خاموشی سے جلسے کی تیاری کرتے رہیں لیکن لگتا ہے کہ ابھی تک بات پہنچی نہیں کیونکہ جلسے کی تیاری تو ہورہی ہے۔تو بہر حال یہ بھی اچھی بات ہے کہ واقعی خاموشی سے کام ہو رہا ہے جو دوسروں کو پتہ نہیں لگا۔اخلاص و وفا کا نمونہ جو لجنہ جرمنی نے اور وہاں کی بچیوں نے دکھایا ہے وہ تو بیان نہیں ہو سکتا۔بہر حال یہ تسلی رکھیں کہ انشاء اللہ تعالیٰ وہاں لجنہ کا عورتوں کا بھی جلسہ ہوگا انشاء اللہ۔لیکن اس واقعہ نے جرمنی کی لجنہ کی قدر خاص طور پر میرے دل میں کئی گنا بڑھا دی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کے اخلاص و وفا کو بڑھا تا ر ہے اور ہر دم ترقی کرتی رہیں۔دوبارہ پھر میں دعا کی درخواست کرتا ہوں اپنے ملکوں کے جلسوں کے لئے بھی دعا کریں اور میرے دوروں کے لئے بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رحمتوں اور فضلوں کے دروازے کھولتا چلا جائے۔الفضل انٹر نیشنل جلد نمبر 15 شمارہ نمبر 18۔مورخہ 2 مئی تا8 مئی 2008ء صفحہ 5 تا8 )