خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 164 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 164

خطبات مسرور جلد ششم 164 (16) خطبہ جمعہ فرمودہ 18 اپریل 2008 فرمودہ مورخہ 18 را پریل 2008ء بمطابق 18 رشہادت 1387 ہجری شمسی بر موقع جلسہ سالانہ جماعت احمد ی گھانا بمقام باغ احمد گھانا تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: کل جلسہ سالانہ کی افتتاحی تقریر میں میں نے عبادت کی طرف توجہ دلائی تھی اور عبادت کا بہترین ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ایک مسلمان کو روزانہ پانچ نمازوں کی ادائیگی بتایا ہے اور اس بارہ میں خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں بے شمار جگہ حکم فرمایا ہے بلکہ قرآن کریم کی ابتداء میں ہی یہ بتا دیا کہ ایک متقی کی نشانی اللہ تعالیٰ پر ایمان کے بعد یہ ہے کہ وہ با قاعدہ نماز کا حق ادا کرنے والا ہو۔اور نماز کا حق ادا کرنا کیا ہے؟ نماز کا حق یہ ہے کہ اس کے مقررہ اوقات پر ادا کی جائے یعنی جہاں مسجد یا نماز سنٹر ز ہوں وہاں جا کر باجماعت نماز کی ادا کی جائے۔کسی دنیاوی کام کو کرنے کے لئے نمازوں کو جمع کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔عورتیں جن کو کوئی شرعی عذر نہ ہو گھر میں با قاعدہ نماز ادا کریں۔عورتوں کے لئے نماز معاف نہیں ہے۔پس ایک مسلمان کے حقیقی مومن کہلانے کے لئے نماز ایک انتہائی بنیادی حکم ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ نماز عبادت کا مغز ہے پس اس مغز کو حاصل کرنا ایک مومن کا سمح نظر ہونا چاہیئے۔ان جلسے کے دنوں میں میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے نمازوں کا بڑا خیال رکھا جاتا ہے۔مرد، عورتیں، بچے، بچیاں سب نماز کے لئے بڑی تعداد میں آ رہے ہوتے ہیں۔یہ عادت جو آپ کو اس ٹریننگ کیمپ میں پڑ رہی ہے اسے ہمیشہ جاری رکھیں۔یہ نہ ہو کہ جب آپ گھروں کو واپس جائیں تو وہ سب کچھ بھول جائیں جو آپ نے یہاں سیکھا تھا جس میں نمازوں کی طرف توجہ بھی تھی۔گھر کے کاموں میں، اپنی تجارتوں میں یا کھیل کود میں مشغول ہو کر اپنے اس پیدائش کے مقصد کو کہیں بھول نہ جائیں۔جیسا کہ میں نے کل بتایا تھا کہ انسان کے اس دنیا میں آنے کا یہی مقصد قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اپنی بعثت کا بہت بڑا مقصد یہی بتایا ہے کہ بندے اور خدا میں ایک زندہ تعلق قائم کیا جائے۔پس ہر احمدی با قاعدہ نمازیں پڑھنے والا ہو اور ہونا چاہئے اور اس کی نمازیں ایسی نہ ہوں جو سرسے بوجھ اتارنے والی ہوں بلکہ ایک فرض سمجھ کر ادا کی جائیں جس کے بغیر زندگی بے کار ہے۔ہمیشہ یا درکھیں کہ ہم جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ پوری دنیا کو احمدیت کی آغوش میں لے آئیں گے تو ہمیں پتہ ہونا